30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الشارح ولاعلی العلامۃ البحررحمۃ اﷲعلیہ فانھما اتیابعین مافی الوجیز والخانیۃ فانھما ایضانصا علی عدم الوقوع وعللا بترك الاضافۃ' فکما وجب حمل کلامھما علی ماتقدم کذالك یحمل علیہ کلام ھذین الفاضلین،بیدان الامامین اتیابعدہ بما اوضح المراد من قولھما ان القول قولہ والفاضلین اقتصرا علی ذٰلك فبقی کلامھما علی الایھام،ولیس فی کلامھما ان الاضافۃ الصریحۃ اللفظیۃ شرط للوقوع حتی یتوجہ علیہ بقیۃ کلام الفاضل المحشی رحمہ اﷲ تعالٰی نعم علل الفاضلان الشارحان الحلبی و الطحاوی بان الاضافۃ شرط حق فی نفسہ کما قررنا و لکن لایصح ح الجزم بعدم الوجد ان فان الشرط مطلق الاضافۃ نصًا اوعرفًا اوجوابًا والمفقود جزما ھی الاضافۃ اللفظیۃ المنصوصۃ ولیست بشرط فالاخذان کان فعلی المحشیین دون الفاضلین العلامتین۔ اللّٰھم الافی ترك الایضاح کما علمت،ھکذا ینبغی تحقیق المقام واﷲولی الفضل والانعام١٢۔ |
سمجھو اور غور کرو،ہوسکتا ہے کہ اﷲتعالٰی اس کے بعد کوئی سبیل پیدا فرمادے،اسے مضبوط رکھو۔اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ فاضل علامہ بحر رحمہاﷲتعالٰی پر کوئی اعتراض نہیں،کیونکہ اُنہوں نے وہی کچھ کہا جو وجیز اور خانیہ میں بیان کیا گیا ہے،کیونکہ ان(وجیز و خانیہ)دونوں نے مذکورہ میں یہ طلاق نہ واقع ہونے کی تصریح کی اور اس کی وجہ ترك اضافت کو قرار دیا،تو جس طرح وجیز اور خانیہ کی عبارت کو مذکورہ معنٰی پر محمول کرنا ضروری ہوا یونہی ان دونوں فاضل حضرات شارح وبحر کلام کو اسی معنٰی پر محمول کرنا ضروری ہے،صرف اتنا ہوا کہ دونوں اماموں وجیز وخانیہ نے اس کے بعد اپنی مراد کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ خاوند کی بات معتبر ہوگی،جبکہ دونوں فاضل حضرات نے عدمِ وقوع طالق کے ذکر پر اکتفاء کیا جس کی بناء پر ان کی کلام میں احتمال کی گنجائش رہ گئی حالانکہ ان دونوں حضرات کے کسی کلام میں یہ تصریح نہیں ہے کہ اضافت کا لفظوں میں صریح طور پر مذکور ہونا وقوعِ طلاق کے لئے ضروری ہے تاکہ بقیدکلامِ فاضل محشی سے اس پر اعتراض ہوسکے ہاں،فاضل حلبی اور فاضل طحاوی دونوں حضرات نے شرح میں یہ وجہ بیان کی ہے کہ اضافت شرط ہے جو یہاں موجود نہیں ہے تو ان دونوں حضرات کا یہ کہنا بجا ہے کہ اضافت شرط ہے،جیسا کہ نے ذکر کیا ہے،لیکن ان کایہر کہنا کہ یقینا یہاں اضافت نہیں پائی گئی،یہ درست نہیں کیونکہ اضافت کا پایا جانا شرط ہے خواہ بطور نص ہو،یا عرف یا جواب کے طور پر ہو،اضافت کے صرف صراحتًالفظی طور پر مفقود ہونے پر شرط کے مفقود ہونے کا قول نہیں کیا جاسکتا،کیونکہ صرف لفظی طور پر مذکور ہونا شرط نہیں ہے۔غرضیکہ اگر مواخذہ ہو بھی تو دونوں محشی حضرات پر ہوگا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع