30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اماھٰھنا فارادۃ الایقاع غیر متحققۃ ولعل فی نفسہ سہ طلاق دادنش بایرادسہ طلاق راسزا وارست واما ھو جالس فی بیتہ فابتدأیتلفظ بلفظ طالق فکیف یجوز الحکم بانہ ارادبہ ایقاع الطلاق علی امرأتہ ولیس فی حال ولاقال دلیل علیہ فوجب التوقیف علی اجارہ عمافی نفسہ' ھذاکلہ مافاض اجارہ عما فی نفسہ' ھذاکلہ مافاض علی قلب العبدالذلیل من بحار فیوض الرب الجلیل فقد التأمت الفروع جمیعا وارتفع الاضطراب ونزل کل فرع منزلہ من الصواب والحمدﷲرب العالمین۔ نعم بقی ھھنا فرع فی الھندیۃ عن الخلاصۃ لاقالت گراں بخریدی بعیب بازدہ فقال بعیب بازدادمت ونوی یقع بہ الطلاق ولو قال بہ عیب بازدادم بغیر التاء لایقع وان نوی [1]اھ فان الفصل الاخیر منہ من القسم الاخیر الذی ذکرنا فکان ینبغی علی ما اصلنا لایقع دیانۃ مالم ینوولاقضاء
|
قلت(میں کہتا ہوں کہ)فرق واضح ہے کہ کیونکہ پہلی صورت"میں نے قسم کھائی ہے طلاق کی"میں تصریح ہے،میں نے قسم کھائی،تو اس کو عام فہم معنٰی پر محمول کیا جائے گا جب تك کوئی مخالف وضاحت نہ پائی جائے،اور یہاں یعنی تین طلاق یا"طالق"کیا صورت میںطالق کو واقع کرنے کا ارادہ متحقق نہیں کیونکہ ہوسکتا ہ کہ اس کو تین طلاق دینے سے اس کی مراد یہ ہو کہ تین طلاق کے قابل ہے،لیکن ایك شخض گھر بیٹھے صرف لفظ"طالق"سے بات کی ابتداء کرتا ہے اور طلاق کو واقع کرلے کاکوئی حال یا کوئی بات قرینہ نہ ہو جو دلیل بن سکے تو بلاوجہ کیسے کہاجاسکتا ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کاارادہ کیا ہے اس لئے ایسی صورت میں اپنے دل کی بات واضح کرنے پر حکم موقوف رہے گا۔یہ تمام بحث بندہ ناچیز کے دل پر رب جلیل کے فیوضات کے سمندر سے وارد ہوئی ہے،تو اس سے تمام صورتیں آپس میں موافق ہوگئیں اور اضطراب ختم ہوگیا،اور ہر مسئلہ اپنے صحیح مقام پر منطبق ہوگیا الحمدﷲرب العالمین۔(ت) ہاں یہاں ہندیہ کا خلاصہ سے منقول ایك مسئلہ رہ گیا ہے کہ اگر بیوی نے خاوند کی وجہ سے واپس کردے،تو جواب میں خاوند نے کہا عیب کی بناء پر میں نے تجھے واپس کیا،طلاق کی نیّت س کہا تو خاوند کے اس قول سے طلاق ہوجائے گی،اور اگر خاوند نے جواب میں صرف یہ کہا میں نے عیب کی بناپر واپس کیا،بیوی کو خطاب کے بغیر کہا،تو طلاق کی نیت ہوکہ تو بھی طلاق نہ ہوگی اھ یقینا اس مسئلہ میں جواب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع