30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دیانۃ ظاہر لان الاخبار انما کان کاذبًا اما قولی انما یصدقہ بالیمین فلما صرحوابہ من انہ حیث یکون القول لہ فانما یصدق بالیمین کماصرح بہ فی التبیین وغیرہ [1]۔
الثانی ان لاتکون ھنا قرینۃ ذٰلك وحٍ یتوقف الوقوع علی اخبار بالنیۃ فان اقرَّوقع والا لا اذلا سبیل الی الحکم بالوقوع بالشك وھذا ماقال فی الھندیۃ عن الخلاصۃ سکران ھربت منہ امرأتہ فتبعھا ولم یظفر بھا فقال بالفارسیۃ بسہ طلاق ان قال |
قنیہ میں ذکر کردہ امام برہان الدین محمود صاحب محیط کا بیان کردہ مسئلہ ہے کہ ایك شخص کو چند لوگوں نے شراب پینے کی دعوت دی تو اس نے جواب میں کہا کہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے اس لئے میں شراب نہیں پیوں گا تحفہ نے کہا کہ دیانۃً طلاق نہ ہوگی اھ۔ان مذکورہ تینوں حضرات کے مسائل میں بزازیہ کا یہ کہنا کہ"نہ واقع ہوگی"اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نیّت نہ کی ہو تو دیانۃً نہ ہوگی،اور اس نے اپنے بیان میں کہہ دیا کہ میں نے اپنی بیوی کا ارادہ نہیں کیا۔علامہ شامی نے فرمایا کہ اس بات کو اس صورت پر محمول کیاجائے گا کہ جب تك خاوند یہ نہ کہہ دے کہ میں نے کسی دوسری عورت کی طلاق کی قسم کھائی ہے،لہذا یہ صورت خاوند کی قسم والی خبر جُھوٹی ہے،باقی میرا یہ کہنا کہ خاوند کی تصدیق اس کے حلف پر کی جائے گی کیونکہ فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے جہاں وُہ کہتے ہیں کہ خاوند کی تصدیق کی جائے گی وہاں وہ قسم لے کر تصدیق مرادلیتے ہیں جس کی تصریح کی ہے جہاں وُہ کہتے ہیں کہ خاوند کی تصدیق کی جائے گی وہاں وہ قسم لے کر تصدیق مراد لیتے ہیں جس کی تصریح تبیین وغیرہا میں موجود ہے۔(ت) دوسری قسم یہ ہے کہ وہاں یہ قرینہ پایا جائے،تو وہاں طلاق کا واقع ہونا خاوند کے اس بیان پر موقوف ہوگا کہ میں نے بیوی کی نیت کی ہے لہذا وہاں نیت میں بیوی مراد لینے کا اقرار ہوتو طلاق ہوگی ورنہ نہیں،کیونکہ محض شك کی بنا پر طلاق کے حکم کا کوئی مطلب نہیں ہے۔اس قسم کی صورت وُہ ہے جس کو ہندیہ نے خلاصہ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ کسی نشے والے بیوی بھاگ گئی تو اس نے تعاقب کیا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع