30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الابالیمین فان حلف صدق لکونہ امینا فی الاخبار عما فی نفسہ وقداتی بمایحتملہ کلامہ وھذاماقال فی الھندیۃ عن خلاصۃ الفتاوٰی رجل قال لامرأتہ اگر تو زن منی سہ طلاق مع حذف الیاءلایقع اذاقال لم انو الطلاق لانہ لما حذف لم یکن مضیفا الیھا١[1]اھ فان الاضافۃ وان عدمت بوجوھھا الثلثۃ لکن التعلیق علٰی قولہ"اگر تو زن منی"یفید تبادر ارادۃ طلاق المرأۃ فیتوقف انتفاء الوقوع علی نفیہ النیۃ ولایتوقف الوقوع علی اقرارہ بھا،وعلم منھا الفرعان الماران عن الامام نجم الدین وعن شیخ الاسلام ابی نصرفانھا وان خرجا عن تحقق الاضافۃ لخروج الکلام عن الاجابۃ لکن الذی جری بینھما مع قولہ فی الشرط"چوں تو روئے"واگر تو زن منی یفید ماذکرنا فلذاتوقف عدم الوقوع علٰی ادعائہ عدم
|
میں نے بیوی کا ارادہ نہیں کیا اور اگر اس نے ایسا کہہ دیا تو اس سے قسم لی جائے گی اور قسم کے بغیر اس کی تصدیق نہ کی جائے گی،اگر اس نے قسم دے دی تو پھر اس کی تصدیق کردی جائے گی اورطلاق نہ ہوگی،کیونکہ اپنی نیت کے متعلق خبر دینے میں سے امین تصوّر کیا جائے گا جبکہ اس نے کلام بھی ایسی کی ہے جس میں گنجائش ہے،یہی وُہ صورت ہے جس کوہندیہ میں خلاصۃ الفتاوٰی سے نقل کیا ہے کہ ایك شخص نے اپنی بیوی سے کہا اگر تومیری بیوی ہے تین طلاق،نسبت کی یاء کو طلاق سے حذف کرکے کہا تو اس وقت طلاق نہ ہوگی جب وہ یہ کہےکہ میں نےبیوی کی طلاق کی نیت نہیں کی ہے،کیونکہ جب اضافت حذف ہے تو طلاق کی اضافت عورت کی طرف نہ ہوئی اھ،کیونکہ اگر چہ اضافت تینوں لفظی طریقوں سے نہ پائی گئی لیکن خاوند نے"اگر تُومیری بیوی ہے"سے تعلیق کی ہے جس سے فہم میں یہی آتا کہ اس نے اپنی بیوی کو طلا ق کہی ہے،اس لئے طلاق کا عدمِ وقوع خاوند کی وضاحت پر موقوف ہوگاکہ میںنے نیّت نہیں کی،لیکن اس مسئلہ میں طلاق کا وقوع خاوند کے اقرار نیت پر موقوف ہوجائے گی نہ ہوگا(بلکہ نفی نہ ہونے پر خود بخود طلاق واقع ہوجائے گی)تو اس بحث سے امام نجم الدین اور شیخ الاسلام ابونصر کے مذکور ہ دونوں مسئلے واضح معلوم ہوگئے،کیونکہ یہ دونوں مسئلے اگر چہ اضافت سے خالی ہیں اس لئے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع