30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الحکم بالوقوع من دون الحاجۃ الی نیۃ کماکان فی الفروع المتقدمۃ التی تلونا لکنہ لما زاد قولہ چوں تو روئے اوقولہ اگرتو زن منی،لم یبق جوابا وصار کلامًا مبتدأفلم تسراضافۃ السوال الیہ وقد نص علی ھذاالاصل العلماء کما لایخفی علی من خدم کلماتھم من ذٰلك عن الذخیرۃ قال لہ تغد معی قال واﷲ لااتغدّی فذھب الٰی بیتہ وتغدّی مع اھلہ لایحنث لان قولہ خرج جوابالسوال المخاطب وامکن جعلہ جوابالانہ لم یزد علی حرف الجواب بخلاف مالوقال واﷲلااتغدی معك لانہ زاد علی حرف الجواب ومع الزیادۃ علیہ لایمکن ان یجعل جوابا[1]اھ ملخصًا۔
فان قلت ماالجواب عن فرع الھندیۃ عن الخلاصۃ لوقالت طلقنی فضربھا وقال لھا اینك طلاق لایقع ولو قال اینك طلاق یقع٢[2]اھ فقد کانت |
اجنبی کوئی بات کرے تو وُہ جواب نہیں رہتا بلکہ نیا کلام متصور ہوتا ہے،تو مذکورہ دونوں مسئلوں میں جواب صرف اتنا تھا طلاق دی گئی یا ایك طلاق،دو طلاق،تین طلاق،اگر خاوند جواب میں اتنی بات ہی کہتا تو طلاق کے واقع ہونے کا حکم ہوتا اور نیت کی ضرورت نہ ہوتی،جیسا کہ پہلے گزرے مسائل میں اس کو ہم نے بیان کیا ہے۔لیکن جب ان دونوں مسئلوں میں خاوند نے،پہلے میں"جب توجائے"اور دوسرے میں"اگر تُومیری عورت ہو"جواب سے زائد کردئے تو یہ بیوی کو جواب نہ ہوا بلکہ نیا کلام بن گیا جس سے سوال والی اضافت ختم ہوگئی۔اس قاعدہ کی علماء نے تصریح کی ہے۔یہ بات اس شخص پر مخفی نہیں جو علماء کے کلام کا خادم ہے۔اسی قاعدہ پر ذخیرہ سے منقول ہے،ایك شخص نے دوسرے کو کہا آؤ میرے ساتھ ناشتہ کرو تو دوسرے نے جواب میں کہا خدا کی قسم میں ناشتہ نہیں کروں گا،یہ کہہ کر وُہ اسی شخص کے گھر جا کر اس کے گھر والوں کے ساتھ ناشتہ کرتا ہے،تو قسم سوال کو جواب بنانا بھی ممکن ہے کیونکہ اس نے جواب پر کوئی حرف زیادہ نہیں کیا اس کے برخلاف اگر ہو مستقل زائد کلام کرتے ہوئے یہ کہتا خدا کی قسم میں تجھ سے ناشتہ نہ کروں گا،تو پھرصرف جواب ہونا ممکن نہیں(لیکن یہاں صرف ناشتہ نہ کروں گا،کہا جو کہ صرف جواب کے طور پہر درست ہوسکتا ہے)اھ ملخصًا(ت) اس پر اگر تیرا اعتراض ہو کہ ہندیہ میں خلاصہ سے منقول مسئلہ کے بارے میں کیاجواب ہوگا جس میں عورت نے کہامجھے طلاق دے تو خاوند نے اس کو مارا اور کہا یہ طلاق ہے،تو طلاق نہ ہوگی،اور اگر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع