30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نخواستہ ام راہش گزارندوانش دارند واگر نکول کند بارادہ طلاق معترف شود سہ طلاق رنگ ثبوت یا بد۔واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم۔ اقول:وباﷲ التوفیق بقی بعد اشیاء فانك ان تتبعت فروع ترك الاضافۃ وجدتھم،ربما یقولون لایقع مالم یقل اردتھا فھذا یدل علی ان الوقوع مشروط بالقول،وربما قالوایقع مالم یقل اردت غیرھا اولم اردطلاقھا فھذا یدل علی ان عدم الوقوع ھوالموقوف حتی لولم یقل ذٰلك وقع وان لم یقل اردت طلاقھا،وربما تراھم یحکمون بالوقوع من دون حاجۃ الی النیۃ مع ترك الاضافۃ حیث وجدت فی کلام الخاطب کالمرأۃ وغیرھا وواخری تراھم ینوون مع وجودالاضافۃ فی کلام المخاطب،وربما تسمعھم یحکمون بالوقوع مطلقا من دون نیۃ مع عدم الاضافۃ لافی قولہ ولافی قول غیرہ،وربما ینوون فی
|
مرادنہیں لی،تو زید بری ہے اور اس کوامن ہے اور اگر وُہ قسم سے انکار کرے تو وہ طلاق کے ارادہ کا معترف قرار پائے گا اور اس کی بیوی کی تین طلاق ہوجائیں گی۔ واﷲ سبحانہ، و تعالٰی اعلم(ت)اقول: وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲتعالٰی سے ہی حاصل ہے۔ت)کچھ امور باقی ہیں،کیونکہ جب آپ فقہاء کرام کی عبارات کو ترك اضافت کے مسائل میں غور سے تلاش کریں تو آپ ان کو کبھی یُوں پائیں گے کہ وُہ کہہ رہے ہیں کہ طلاق واقع نہ ہوگی جب تك خاوند بیوی مراد لینے کا قول نہ کرے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ طلاق کا وقوع خاوند کے اس قول سے مشروط ہ،اور کبھی وُہ کہتے ہیں کہ طلاق واقع ہوگی جب تك یہ نہ کہہ دے کہ کسی اورعورت کا ارادہ کیا ہے یا میں نے بیوی کی طلاق کا ارادہ نہیں کیا تھا،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر اضافت طلاق کا عدمِ وقوع اس کی مذکور وضاحت پر موقوف ہے،اگر وضاحت نہ کرے تو طالق ہوجائے گی اگرچہ بیوی کی طلاق کا ارادہ نہ بھی ظاہر کرے۔اور کبھی تم دیکھو گے کہ فقہاء کرام ایسی صورت میں طلاق کا حکم دیتے ہیں اور نیت کی حاجت محسوس نہیں کرتے اور اضافت بھی متروك ہوتی ہے جہاں پر کوئی بیوی یا کسی غیر سے خطاب کررہا ہو اور کبھی ان کو اضافت کے باوجود نیت کا متلاشی پاؤگے،جبکہ مخاطب کے کلام میں اضافت پائی جائے اور کبھی آپ سُنیں گے کہ وہ اضافت نہ ہونے کے باوجود نیت نہ ہونے پر وقوعِ طلاق کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع