30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ذکر جریی لامرأتہ ہندہ ولامن غیرھا پس ایں جانیز حکم طلاق علی الاطلاق نتواں کرد بلکہ اگر زیدبقسم گوید کہ بایں سخن ارادہ طلاق زنش نہ کردہ بود مصدق دارند وزن را مطلقہ نشمارند کما قدمنا النصوص علیہ ہمچناں قول او بجواب عمرو کہ طلاق دادہ ام نیز از اضافت خالی است درسوال وجواب ہیچ جاذکر زن نیست پس قضاء حکمش ہماں حکم الفاظ سابقہ است ودیانۃً ازاں ہم آسان تراست کہ طلاق دادہ ہم صریح دراخبار است اگر ایں جا اضافت در نیت داشتہ از اضافت منویہ عاری بود لانہ حِ لایکون الا اخبار کاذبا والاخبار الکاذب لایرد بہ طلاق دیانۃ کما نص علیہ فی الخیریۃ وردالمحتار وغیرہما من معتمدات الاسفار،پس در صورت مستفسرہ حکم قضاء آن است کہ اگر ثابت ہماں بمجرد لفظ یك طلاق دوطلاق سہ طلاق بے ضم می دہم است کما مشروح فی اول السوال آنگاہ بازید ہیچ تعرض نہ کنند بعدم ثبوت الطلاق اصلا،واگر بدوشاہد عدل ثبوت نہ پزیرد کہ سہ بار طلاق میدہم گفتہ بود پس زید را سوگند دہند اگر حلف کرد کہ بایں سخن طلاقِ زن
|
بیوی ہندہ یاغیر کے ذکر کے بغیر"طلاق می دہم"کہنے پر بھی علی الاطلاق قاضی طلاق کا حکم نہ کرے گا،بلکہ اگر زید قسم کھا کر کہہ دے میں نے بیوی کی طلاق کا ارادہ نہیں کیا تھا تو قاضی کو اس کی تصدیق کرنی ہوگی،اور بیوی کو مطلقہ نہ قرار دے گا،جیساکہ ہم سابقہ نصوص میں اسے بیان کرآئے ہیں اور یونہی زید کا عمرو کے جواب میں یہ کہنا"طلاق دادہ ام"(میں نے طلاق دی ہے)بھی اضافت سے خالی ہے،لہذاقضاءً اس کا حکم بھی سابقہ الفاظ کی طرح ہوگا،اور دیانۃً یہ لفظ پہلے الفاظ سے آسان ہیں کیونکہ"طلاق دادہ ام"صریح خبر ہے اس میں یہاں اگر اضافت کی نیت ہو تب بھی طلاق نہ پڑے گی نیز مذکورہ الفاظ نیت میں اضافت سے خالی ہونے کی بناء پر جھوٹی خبریں قرار پائیں گے جبکہ جھوٹی خبر سے طلاق کا ارادہ دیانۃً درست نہیں ہے جیسا کہ اس پر خیریہ اور ردالمحتار وغیرہما معتبر کتب میں تصریح موجود ہے۔لہذا مسئولہ صورت میں قضاءً حکم یہ ہے کہ اگرصرف یہی الفاظ ہوں ایك طلاق، دو طلاق،تین طلاق،ان کے ساتھ"میدہم"نہ ثابت ہو تو یہ زید سےکسی قسم کا تعرض جائز نہ ہوگا کیونکہ طلاق کا اصلًا کوئی ثبوت نہیں،اور اگر زید نے ان الفاظ کے ساتھ"میدہم"کہا ہوتو پھر اگر دو٢ گواہ عادل ثابت نہ کرسکیں کہ زید نے تین بار"طلاق میدہم"کہا ہے توزید سے قسم لی جائے،اگر حلفًا کہہ دے کہ میں نے ان الفاظ سے بیوی کی طلاق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع