30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فرت ولم یظفر بھا فقال سہ طلاق ان قال اردت امرأتی یقع والا لا،ودر بحرالرائق لو قال طالق فقیل من عنیبت فقال امرأتی طلقت امرأتہ١[1]اھ،فقد علق الوقوع علی اقرارہ انہ عناھا این ست تحقیق انیق وبہ یحصل بتوفیق اﷲتعالٰی التوفیق وتمام الکلام فی غیر المقام مع توضیع المسائل وتنقیح الدلائل مذکورفیما علقنا علی ردالمحتار فعلیك بہ فانك لا تجدہ فی غیرہ والحمدﷲ العزیز الغفار۔چوں ایں معنی عالی منجلی شد حالا در مسئلہ دائر نظر باید پیدا ست کہ لفظ عاری از اضافت ست وسائل فاضل درنامہ خودش وانمودہ کہ صدور ایں کلام از زید ابتداءً بود بے مکالمہ احدے دربارہ طلاق ہندہ حتی یتوھم وجود الاضافۃ فی سوال صدر ھذاجوبا لہ و السوال معاد فی الجواب بازآغاز اظہار سوال آنست کہ زید ہمیں یك طلاق دو طلاق سہ طلاق
|
کچھ نہ کہا تو طلاق نہ ہوگی۔اور مجموعہ الفتاوٰی کے الفاظ یہ ہیں: بیوی بھاگ گئی اور کامیاب نہ ہوا تو اس نے کہا،تین طلاق،اگر وہ کہے میں نے بیوی کے ارادے سے یہ الفاظ کہے ہیں تو بیوی کو طلاق ہوگی ورنہ نہیں،بحرالرائق میں ہے:کسی نے کہا طالق،تو پوچھا گیا کہ تو نے کس کے ارادے سے کہا،اس نے کہا میں نے اپنی بیوی کے ارادے سے کہا ہے،تو بیوی کو طلاق ہوجائے گی اھ۔بحرالرائق نے طلاق واقع ہو نےکو اس کے اقرار سے مشروط کیا ہے کہ اس نے بیوی مرادلی ہے،یہ واضح تحقیق ہے اور اﷲتعالٰی کی توفیق سے عبارات میں موافقت ہوگئی ہے،اس کی مکمل بحث دوسری جگہ مسائل کی وضاحت اور دلائل کی چھان بین کے ساتھ ردالمحتار کے ہمارے حاشیہ میں مذکور ہے،اس کی طرف رجوع تجھ پر لازم ہے کیونکہ دوسری جگہ ایسی تحقیق نہ پائے گا،سب تعریف اﷲتعالٰی غالب اور بخشنے والے کے لئے ہی ہے۔جب یہ عالی شان بحث روشن ہوگئی تو اب زیرِ نظر مسلہ میں غور کرنا ضروری ہے کہ یہاں لفظ اضافت سے خالی ہیں،اورسائل نے اپنے خط میں خود واضح کیا ہے کہ زید سے یہ کلام ابتداء صادر ہوا ہے جس سے قبل کوئی مذاکرہ طلاق ہندہ کسی نے نہیں کیا،تاکہ یہ شبہہ ہوسکے کہ ہندہ کے بارے میں طلاق کے سوال میں اضافت مذکور ہے جس کے جواب میں یہ کلام ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع