30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لتھمۃ المواضعۃ[1]۔ |
میاں بیوی کے ناجائز سمجھوتہ کی تہمت نہ لگ سکے(ت) |
مگر نفقہ مفروضی ساقط کرنے کے لئے اس کا قول معتبر نہ ہوگا اس وقت تك کا نفقہ مفروضہ دلائیں گے اور اس وقت سے مطلقہ مانیں گے اور آج سے تمامی عدت تك کا نفقہ واجب کریں گے۔ہاں اگرعورت بھی تسلیم کرلے کہ اتنا زمانہ ہواطلاق ہوچکی اور عدّت گزرچکی تو بےشك نفقہ لازم نہ آئے گا مگر طلاق بہرحال اس وقت سے لازم ہے۔درمختار میں بعد عبارت مذکورہ ہے:
|
لکن ان کذبتہ فی الاسناد اوقالت لا ادری وجبت العدۃ من وقت الاقرار ولھا النفقۃ والسکنی وان صدقتہ فکذٰلك غیرانہ لانفقۃ لا سکنی لقبول قولھا علٰی نفسھا خانیۃ [2](ملخصا) |
لیکن اگر عورت مرد کو زمانہ کی نسبت میں جھوٹا قرار دے یا کہے کہ مجھے معلوم نہیں،تو ایسی صورت میں اقرار کے وقت سے عدّت شروع ہوگی،اگر اس کو نفقہ اور رہائش دینی ہوگی،اور عورت اس کی تصدیق کرے تو پھر حکم یہی ہے مگر وُہ اپنی تصدیق کی وجہ سے اپنے نفقہ اور سکنٰی اور سکنٰی کے حق سے محروم ہوجائے گی(ملخصًا)(ت) |
ذخیرہ امام برہان الدین محمود پھر ہندیہ میں امام خصاف رحمۃ اﷲتعالٰی سے ہے:
|
لوان رجلا قدمتہ امرأتہ الی القاضی وطالبتہ بالنفقۃ وقال الرجل للقاضی کنت طلقتھا منذسنۃ وانقضت عدتھا وجحدت الطلاق لایقبل قولہ فان شھد لہ شاھدان بذلك والقاضی لایعرفھما فانہ یامرہ بالنفقۃ علیھا فان عدلت الشہود واقرت انہا حاضت ثلث حیض فی ھذہ السنۃ،فلانفقۃ لھا علیہ فان اخذت منہ شیئاردت علیہ[3]۔ |
اگر کسی عورت نےقاضی کے ہاں کسی شخص کی پیشی کرادی اور نفقہ کا مطالبہ کیا اور مرد نے قاضی سے کہا کہ میں نے اس کو ایك سال قبل طلاق دے دی تھی اور عدت بھی گزرچکی ہے اور عورت طلاق کا انکار کردے تو قاضی مرد کی بات کو قبول نہیں کرے گا،اگر دو گواہوں جن کو قاضی نہیں جانتا،نے گواہی مرد کے حق میں دی تو پھر بھی قاضی نفقہ واجب کردے گا،ہاں اگر عورت ان گواہوں کو عادل قراردے اور تین حیض سال بھر میں گزرنے کا اقرار کرلے تو اب عورت کے لئے نفقہ نہ ہوگا پھر اگر عورت نے کچھ وصول کیا ہو تو واپس کرے گی۔(ت) |
بدائع امام ملك العلماء میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع