30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یقع کثیر فی کلام العوام انت طالق تحلی للخنازیر وتحرّمی علیّ وافتی فی الخیریّۃ بأنہ رجعی لان قولہ وتحرمی علیّ ان کان للحال فخلاف المشروع لانھا لا تحرم الابعد انقضاء العدّۃ،وان کان للاستقبال فصحیح ولاینافی الرجعۃ،وکذلك افتی بالرجعی فی قولھم انت طالق لایردك قاضی ولا عالم لانہ لا یملك اخراجہ عن موضوعہ الشرعی وایدہ فی حواشیہ علی المنح بمافی الصیرفیۃ لوقال انت طالق ولارجعۃ لی علیك فرجعیۃ[1]۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
عوام کے کلام میں کثیر الوقوع ہے کہ"تجھے طلاق ہے تو خنزیروں پر حلال اور مجھ پر حرام ہے"،خیریہ میں فتوٰی دیا ہے کہ یہ طلاق رجعی ہے کیونکہ"تومجھ پر حرام"کہنا،اگر اس سے مراد یہ ہے کہ"فی الحال مجھ پر حرام"تو یہ خلاف، مشروع ہےکیونکہ طلاق کے بعد بیوی عدت ختم ہونے پر حرام ہوتی ہے اور استقبال کے لئے حرام کیا تو یہ صحیح ہے اور یہ رجوع کرنے کے خلاف نہیں اور یوں ہی فقہاء نے رجعی طلاق کا فتوٰی دیا ہے جب کوئی یہ کہے کہ تجھے ایسی طلاق جس پر تجھے کوئی قاضی اور عالم واپس نہ کرسکے،کیونکہ ایسا کہنے کا وُہ مجاز نہیں کہ جس سے وُہ شرعی حکم کو معطل کردے۔منح کے حواشی میں اس کی تائید پرصیرفیہ کا یہ بیان ذکر کیا ہے کہ اگر کسی نے بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے اور تجھے پر رجوع کا حق نہیں ہے،تو یہ طلاق رجعی ہوگی۔واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
جواب سوال دوم
طلاق نامہ دربارہ وقوعِ طلاق ضرور معتبر ہے اس کے کہنے سے کہ میں طلاق دے چکا ہوں،ضرور طلاق ہوجائے گی،
|
لانہ یملك انشاء ہ فی الحال فلاینازع فیما قال۔ |
کیونکہ فی الحال وُہ طلاق کا مالك ہے،تو جو اس نے کہا وہ اس کے مخالف نہیں۔(ت) |
ہاں زمانہ کی طرف اس کی اسناد اگر کرے کہ اتنے دن ہوئے میں اسے طلاق دے چکا ہوں تو یہ مدّت نہ مانی جائے گی بلکہ اسی وقت سے طلاق قرار پائے گی۔درمختار میں ہے:
|
لو اقر بطلاقھا منذزمان ماض فان الفتوی انھا من وقت الاقرار نفیا |
اگر ماضی میاں میں کسی وقت کی طلاق اقرار کیا تو مطلقًا اس وقت اقرار سے طلاق کا فتوٰی ہے تاکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع