30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلکہ بعض صورتوں میں واجب ہوتی ہے،جیسے اس کو اس کے ماں باپ کو طلاق دینے کا حکم دیں اور نہ دینے میں ان کی ایذا وناراضی ہو واجب ہے کہ طلاق دے دے اگر چہ عورت کا کچھ قصور نہ ہو"لان العقوق حرام والا جتناب عن الحرام واجب"(کیونکہ نافرمانی حرام ہے اور حرام سے بچنا واجب ہے۔ت)حدیث میں فرمایا:
|
وان امراك ان تخرج من اھلك ومالك فاخرج١[1]۔ |
اگر والدین بیوی اورمال سے علیحدگی کا حکم دیں تو ایسا ہی کرو۔(ت) |
ہاں بے حاجت بلا عذر شرعی طلاق دینا مکروہ و ممنوع ہے مگر دے گا تو پڑضرور جائے گی کہ وہ اس کی زبان پر رکھی گئی"بیدہ عقدۃ النکاح"(نکاح کی گرہ اس کے ہاتھ میں ہے۔ت)اس کا مرتکب مکروہ وہ بلکہ گنہگار ہونا بھی اس کے وقوع کو نہیں روکتا جیسے حالتِ حیض میں طلاق دینا حرام ہے کہ حکمِ éóòñ[2] (عدّت کو پیشِ نظر رکھ کر طلاق دو۔ت) مگر دے گا تو ضرور ہوجائے گی اور یہ گنہگار۔عہد نامہ کا اثر فقط اتنا ہوگا کہ بلاحاجت جوطلاق جو طلاق دینا مکروہ تھا اب سخت مکروہ ہوگا کہ نقضِ عہد بھی ہو گامگر وقوع سے یہ بھی مانع نہیں ہوسکتا،دے گا تو پڑجانے میں شبہہ نہیں اگر چہ مخالفت کا عہد بھی ہوگا مگر وقوع سے یہ بھی مانع نہیں ہوسکتا،دے گا تو پڑجانے میں شبہہ نہیں اگر چہ مخالفت کا عہد بھی اس پر الزام آئے گا۔اس عہد کا اگر حاصل یہ تھا کہ پانے اختیار طلاق کو سلب کرتا ہے تو وُہ عہد ہی مردود ہے کہ تغیر حکم شرع ہے شرع مطہر نے اس کو مالك کیا ہے اس مِلك کو باطل نہیں کرسکتا۔حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
مابال اقوام یشترطون شروطالیست فی کتاب اﷲ، من اشترط شرطا لیس فی کتاب اﷲفہوردان کانت مائۃ شرط شرط اﷲاحق واوثق[3]۔ |
قوموں کا کیا حال ہوگا کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اﷲمیں نہیں ہیں،جوشخص ایسی شرط لگائے جو اﷲتعالٰی کی کتاب میں موجود نہیں یعنی اﷲتعالٰی کی پسندیدہ نہیں،تو وہ شرط مردود ہے اگر چہ ایسی سو١٠٠ شرطیں ہوں،صرف اﷲتعالٰی کی پسندیدہ شرط قبولیت کے لائق اور باوثوق ہے۔ (ت) |
ردالمحتار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع