30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے کہ تازندگی طلاق نہیں دُوں گا،کیا ا سے پانے اس ا قرار نامہ کے رو سے اس عورت کو طلاق دینا جائز اور درست ہے؟ اور شیرخوار لڑکی بھی اس کے پاس ہے۔
سوال متعلق سوال سابق اقرار نامہ
سائل نے یہ بھی تحریر کر دیا ہے اس اقرار نامہ کے ضمن میں نان نفقہ بابت پانچ روپیہ ما ہوردیاکروں گا،خرچ نہ بھیجنے پر عورت نے حاکم کے پاس نالش کی ہے،مدعا علیہ کی طلبی ہوئی،اس پر جواب دعوٰی کے ساتھ وکیل نے طلاق نامہ لکھواکر پیش کردیا ہے،یہ طلاق نامہ نان ونفقہ کے نہ لازم ہونے کے لئے پیش کیا ہے کہ میں اس کو طلاق نامہ دے چکا تھا جس سے عورت انکاری ہے،کیا یہ طلاق نامہ اس کا ایسی صورت میں معتبر ہ اور نان ونفقہ اس پر واجب نہ ہوگا؟
جواب سوالِ اوّل
شَے واحدمیں حل وحظر کا دوجہت سے مجتمع ہونا کچھ بعید نہیں،طلاق فی نفسہٖ حلال ہے،اور ازانجاکہ شرع کو اتفاق محبوب اور افتراق مبغوض ہے،بے حاجت یا ریت محظور ہے،حدیث میں ان دونوں جہتوں کے اجتماع کی طرف صاف اشارہ فرمایا گیا:
|
ابغض الحلال الی اﷲالطلاق[1]۔ |
حلال چیزوں میں سے اﷲتعالٰی کے ہاں طلاق ناپسندیدہ ترین ہے(ت) |
حلال بھی فرمایا اور مبغوض بھی،آیہ کریمہ میں مطلقًا ارشاد ہوا:
|
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوۡہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّۃَ ۚ[2]۔ |
اے نبی(صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم)!جب آپ طلاق دیں تو عدت کو پیشِ نظر رکھ کر طلاق دیں اور عدت کو شمار کریں۔ (ت) |
اور حدیث میں فرمایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع