30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ١١٤:از کسر اٹون پر گنہ شکن آباد ڈاك خانہ سر ساگنج مرسلہ تصدق حسین صاحب زمیندار ورئیس موضع مذکور ٦رجب ١٣٢١ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك نابالغہ کی شادی ایك شخص سے ہوئی جو آنکھوں سے معذور ہے،عورت کی عمر اب دس١٠ برس کی ہے،اس کے سسرال والے چاہتے ہیں کہ اسے شوہر سے طلاق دلواکر شوہر کے چھوٹے بھائی سے اُس کا عقد کردیں اور عورت کی بڑی بہن بیوہ کا اس نابینا سے نکاح کریں،اس صورت میں چھوٹی بہن کہ بے خطا ہے کوئی شرعی جرم اس کے ذمہ نہیں،طلاق دینا جائز ہے یانہیں،اگرجائز ہے تو اس کا مہر ادا کرنا پڑے گا یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب:
بلاوجہ شرعی طلاق دینا اﷲتعالٰی کو سخت ناپسند ومبغوض و مکروہ ہے،حدیث میں ہے:
|
ابغض الحلال الی اﷲتعالٰی الطلاق[1]۔ |
حلال چیزوں میں سے طلاق دینا اﷲتعالٰی کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔(ت) |
مگر وہ اس کا اختیار ضرور رکھتا ہے،اگر دے گا ہوجائے گی،پھر اگر زوجہ سے ابھی خلوت یعنی بغیر کسی مانع کے تنہائی یکجائی نہ کی یا زوجہ کی ابھی دہ١٠سالہ ہے قابلیتِ جماع اصلًا نہ رکھتی ہو جب تو نصف مہر دینا ہوگا اگر بندھا ہو،اور کچھ نہ بندھا ہوتوایك پورا جوڑا جس میں دوپٹہ،پاجامہ اور عورتوں کے چھوٹے کپڑے اور جوتا سب کچھ ہو،اور مرد عورت دونوں کے حال کے لحاظ سے عمدہ نفیس یا کم درجہ یا متوسط ہو دینا آئے گا جس کی قیمت نہ پانچ درہم سے کم ہو نہ عورت کے نصف مہر مثل سے زیادہ ہو،اگر مرد عورت دونوں غنی ہیں تو نفیس اور دونوں فقیر تو ادنٰی اور ایك فقیر دُوسرا غنی تو اوسط اور اگر یہ دس١٠ سالہ لڑکی قابلِ جماع ہے اور خلوت ہوچکی تو پُورا مہر لازم ہوگا___تنویر الابصار ودرمختار وردالمحتار میں ہے:
|
تجب متعۃ لمفوضۃ وہی من زوجت بلا مھر طلقت قبل الوطء وھی درع وخمار وملحفۃ(قال فخر الاسلام ھذافی دیارھم اما فی دیارنافیزاد علی انوار و |
مفوضہ یعنی جس عورت سے مہر کے بغیر نکاح کیا ہوا اور اس کو وطی سے قبل طلاق دے دی ہوتو ایسی عورت کے لئے پُورا جوڑا لباس دینا بطور متعہ واجب ہے،اور وہ قمیص،دوپٹہ اور بڑی چادر ہے (فخر الاسلام نے فرمایا یہ ان کے علاقہ کا رواج ہے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع