30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نظیر٣: قرآن عظیم کی دسوں١٠ قرأتیں حق اور دسوی١٠ منزّل من اﷲ،دسوں طرح حضور عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے پڑھا اور حضور سے صحابہ،صحابہ سے تابعین،تابعین سے ہم تك پہنچا تو ان میں ہر ایك کا پڑھنا بلاشبہہ قرأتِ قرآن ونورِ ایمان ورضائے رحمان ہے۔بایں ہمہ علماء نے ارشادفرمایا کہ جہاں جو قرأت رائج ہو نماز وغیر نماز میں عوام کے سامنے وہی قرأت پڑھیں،دُوسری قرأت جس سے ان کے کان آشنا نہیں نہ پڑھیں مبادا وہ اس پرہنسنے اور طعن کرنے سے اپنے دین خراب کرلیں۔ہندیہ میں ہے :
|
فی الحجۃ قراءۃ القراٰن بالقراءات السبعۃ والروایات کلھا جائزۃ ولکنی اری الصواب ان لایقرء القرأۃ العجبیۃ بالامالات والروایات الغریبۃ کذافی التاتار خانیہ[1]۔ |
حجہ میں ہے کہ ساتوں قراء ات اور تمام روایات میں قرآن مجید پڑھنا جائز ہے لیکن اس بات کو درست سمجھتا ہُوں کہ نامانوس قراء ت میں امالات اور روایات غریبہ کے ساتھ قرآن مجید نہ پڑھاجائے،جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے :
|
لان بعض السفھاء یقولون مالایعلمون فیقعون فی الاثم والشقاء ولاینبغی للائمۃ ان یحملوا العوام علی مافیہ نقصان دینھم ولا یقرأعندھم مثل قراءۃ ابی جعفر وابن عامروعلی بن حمزۃ والکسائی صیانۃ لدینھم فلعلھم یستخفون اویضحکون وان کان کل القراءات والروایات صحیحۃ فصیحۃ وومشائخنا اختاروا قراءۃ ابی عمر وحفص عن عاصم اھ [2]من التتارخانیۃ عن فتاوی الحجۃ۔ |
اس لئے کہ بعض بیوقوف وُہ کچھ کہیں گے جو وُہ جانتے نہیں ہیں تو گناہ اور بدبختی میں مبتلا ہوجائیں گے،اور ائمہ کے لئے مناسب نہیں کہ وہ عوام کو اس چیز برانگیختہ کریں جس میں ان کے دین کا نقصان ہے اور عوام کے یدن کو بچانے کے لئے ان کے پاس ابوجعفر،ابن عامر،علی بن حمزہ اور کسائی کی قراء ۃ میں قرآن مجید نہ پڑھائے کیونکہ ہوسکتا ہےوہ اس کو ہلکا جانیں اور اس پر ہنسیں اگر چہ تمام قراء ات وروایات صحیح اور فصیح ہیں۔ہمارے مشائخ نے ابوعمر وحفص کی قراء ۃ کو اختیار کیا ہے جو عاصم سے مروی ہے اھ تتارخانیہ از فتاوٰی حجہ۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع