30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی مسند الفردوس۔ |
میں حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت فرمایا۔ت) |
حدیث ٤: حضرت عبداﷲبن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
|
ما انت بمحدث قوما حدیثا لاتبلغہ عقولھم الاکان لبعضھم فتنۃ[1]۔رواہ مسلم فی مقدمۃ صحیحہ۔ قلت ومن ھذالباب ماکان الامام احمد رضی اﷲتعالٰی عنہ یخفی فی بعض مجالسہ القول برویۃ النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ربہ لیلۃ المعراج ذکرہ الزرقانی وقد صح عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ انہ قال حفظت عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وعائین اماحدھما فبثثتہ واما الاٰخرفلو بثثتہ قطع ھذا البلعوم٢[2]۔رواہ البخاری۔ |
تو جب کسی
قوم سے وُہ حدیث بیان کرے گا جس تك ان کی عقل نہ پہنچے وُہ ضرور اُن میں کسی پر
فتنہ ہوجائے گی۔ |
نظیر٢: عمامہ کا شملہ چھوڑنا یقیناسنّت مگر جہاں جُہّال اس پر ہنستے ہوں وہاں علمائے متاخرین نے غیرحالتِ نماز میں اس سے بچنا اختیار فرمایا جس کا منشاء وہی حفظ دینِ عوام ہے۔شیخ محقق مولانا عبد الحق محدّثِ دہلوی قدس سرہ القوی رسالہ آدابِ لباس میں فرماتے ہیں:
|
ارسالِ رابر ارسال شملہ براہین قیاسی بسیارست وارسالِ آں سنّتِ مؤکدہ دانندوعلمائے متاخرین سوائے صلوات پنچگانہ را ارسال ندارند برائے طعن ومسخرہ جہّالِ زمانہ [3]اھ ملخصًا۔ |
فقہاء کے پاس شملہ چھوڑنے پر بہت سے دلائل قیاسیہ موجود ہیں اور وہ اس کو سنت،مؤکدہ سمجھتے ہیں مگر علماء متاخرین جہّال زمانہ کے طعن و تمسخر سے بچنے کے لئے سوائے نماز پنجگانہ کے شملہ نہیں چھوڑتے ہیں اھ ملخصًا(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع