30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دنوں میں۔یُوں ہی باپ یا پیر وغیرہما بزرگوں کے حضورحقّہ پینا،دخترو داماد رات کو ایك پلنگ پر ہوں اُن کے پس جانا پاس بیٹھنا بات کرنا اُن کا بدستور لیٹے رہنا۔ماں بہن بیٹی کا اپنے بیٹے بھائی باپ کے سامنے سینہ وپستان کھولے پھرنا،شریف عورتوں کا برقع اوڑھ کرسرِ بازار سودے خریدنا،اجنبی لوگوں سے باتیں کرنا،ان میں کون سی بات شرعًا ممنوع وناجائز ہے مگر رسم ورواج واصطلاح حادث کی وجہ سے اب تمام اہل حیا انہیں عیب جانتے ہیں جو ایسے امور کا مرتکب ہو اُس پر طعن کریں گے،کیا اس بنا پر معاذاﷲسب مسلمان کافر ٹھہریں گے اسی قبیل کا طعن واعتراض یہاں کے عوام کو نکاحِ ثانی میں ہے تو اس پر بے تکلّف حکمِ کُفر جاری کرنا سخت مجازفت اور کلمہ طیبہ پر بیبا کانہ جرأت ہے والعیاذ باﷲ رب العلمین۔صحیح حدیث سے ثابت کہ حضرت امیر المومنین صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی صاحبزادی حضرت اُمّ المومنین صدّیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کی بہن حضور سیّد المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی سالی حضرت اسماء رضی اﷲتعالٰی عنہا اپنے گھر کاپانی خود بھرکر لاتیں اپنے شوہر حضرت زبیر رضی اﷲتعالٰی عنہ سے گھوڑے کے لئے بیرونِ شہر دو٢ میل پر جاکردانہائے خرمہ جمع فرماتیں اُن کی گھٹری پیادہ پااپنے سر مبار پر اُٹھا کر لاتیں،ایك بار پلٹتے ہوئے راہ میں حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مع ایك جماعت انصار کرام کے ملے حضور نے اُنہیں بلایا اور اونٹ بیٹھنے کا حکم فرمایا کہ اپنے پیچھے سوار فرمالیں،اُنہوں نے مردوں کے ساتھ چلنے میں حیا کی،اور حضرت زبیر رضی اﷲتعالٰی عنہ کی غیرت کا خیال آیا،نہ مانا۔حضرت زبیر سے حال کہا،فرمایا واﷲتمہارا گھٹلیاں سر پرلے کر چلنا مجھ پر زیادہ سخت تھا اس سے کہ تم حضور کے ساتھ سوار ہولیتیں۔صحیحین میں ہے :
|
عن اسماء بنت ابی بکر رضی اﷲتعالٰی عنہما قالت تزوجنی الزبیرومالہ فی الارض من مال ولا مملوك ولا شیئ غیر ناضح وغیر فرسہ فکنت اعلف فرسہ واستقی الماء واخرز عربہ واعجن ولم اکن احسن اخبز وکان تخبز جارات لی من الانصار وکن نسوۃ صدیق وکنت انقل النوی من ارض الزبیر التی اقطعہ رسول اﷲ |
حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲتعالٰی عنہما نے کہا مُجھ سے حضرت زبیر رضی اﷲتعالٰی عنہ نے نکاح کیا حالانکہ زمین میں اس کے پاس نہ کوئی مال تھا اور نہ ہی کوئی مملوک،اور ایك اونٹنی اور ایك گھوڑے کے سوا کوئی شیئ اس کے پاس نہ تھی،میں اس کے گھوڑے کو چارہ دیتی اور اس کو پانی پلاتی تھی اور اس کا ڈول سیتی اور آٹا گوندتی تھی اور میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی،ہماری ہمسائی انصار عورتیں تھی جو کہ بہت اچھی عورتیں تھیں وُہ مجھے روٹیاں پکادیتی تھی اور میں حضرت زبیر رضی اﷲتعالٰی عنہ کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع