30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مَّعْرُوۡفًا ۬ؕ وَلَا تَعْزِمُوۡا عُقْدَۃَ النِّکَاحِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتٰبُ اَجَلَہٗ ؕ [1] |
معروت ہے اور نکاح کی گرہ پکّی نہ کرو جب تك لکھا ہُوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے۔(ت) |
وقال اﷲ تعالٰی :
|
وَالَّذِیۡنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنۡکُمْ وَیَذَرُوۡنَ اَزْوٰجًا ۚۖ وَّصِیَّۃً لِّاَزْوٰجِہِمۡ مَّتٰعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیۡرَ اِخْرَاجٍ ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ فِیۡ مَا فَعَلْنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِنَّ مِنۡ مَّعْرُوۡفٍؕ وَاللہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ﴿۲۴۰﴾[2] |
اور تم میں مریں اور بیویان چھوڑجائیں وُہ اپنی عورتوں کے لئے وصیت کر جائیں سال بھر نان ونفقہ دینے کی بے نکالے،پھر اگر وُہ خود نکل جائیں تو تم پر اس کا مواخذہ نہیں جو انہیں نے اپنے معاملہ میں مناسب طور پر کیا،اور اﷲتعالٰی غالب حکمت والا ہے(ت) |
ان آیاتِ کریمہ کا جملہ جملہ جوازِ نکاح بیوہ پر نص صریح ہے،پھر حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واہلبیتِ کرام وصحابہ عظام رضی اﷲتعالٰی عنہم اجمعین سے قولًا وفعلًا تقریرًا اس کی اباحت متواتر،اُمّ المومنین صدیقہ بنت الصدیق تھیں کما ثبت ذٰلك فی صحیح البخاری من حدیث نفسھا ومن حدیث ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنھم(جیسا کہ صحیح بخاری میں خود ام المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا اور حضرت عبد اﷲابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے ثابت ہے۔ت)مگر کلام اس میں ہے کہ جاہلانِ ہند جو اُسے ننگ وعار سمجھتے ہیں آیا اس بناء پر ہے کہ اُسے ازرُوئے شریعت ہی حلال نہیں جانتے ایسا ہوتو بیشك کفر ہے مگر انصافًا عامہ ناس سے اس کا اصلًا ثبوت نہیں،جس مسلمان سے پُوچھئے صاف اقرار کرے گا کہ شرعًا بے شك جائز ہم ناجائز وحرام نہیں جانتے بلکہ ازرُوئے رسم لوگوں کے نزدیك ایك ننگ وعار کی بات ہے بخیال طعن وبدنامی اس سے احتراز ہے ایسے خیالات پر ہرگز حکمِ تکفیر نہیں ہوسکتا سلفًاوخلفًا تمام لوگوں میں معاملاتِ دنیویہ میں مصالح دُنیویہ کے لحاظ سے ہی باہم ایك دوسرے پر مباحات میں طعن وسرزنش رائج ہے وہاں کیوں گیا،یہ کیوں کیا،فلاں سے کیوں ملا حالانکہ یہ سب امور مباحات شرعیہ ہیں یہ تو خاص خاص ہر شخص کے اپنے ذاتی معاملات میں ہے اور مصلحاتِ عامہ قوم یا شاملہ ملك میں بھی بہت باتیں مباح شرعی ہیں کہ بوجہ عرف وعادت معیوب ٹھہری ہیں کہ اس احتراز واعتراض میں اکثر یہ حضرات مکفرین بھی شریك مثلًا باپ کے سامنے اپنے زوج یا زوجہ سے ہمکلام ہونا خصوصًا نئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع