30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضور پُرنور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے اُس بیوہ کی نہایت تعریف فرمائی جواپنے یتیم بچّوں کولئے بیٹھی رہے اور اُن کے خیال سے نکاحِ ثانی نہ کرے،
حدیث١: سُنن ابوداؤد میں حضرت عوف بن مالك اشجعی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے مروی حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
|
انا وامرأۃ سفعاء الخدین کھاتین یوم القیٰمۃ واومی بیدہ یزید بن زریع السبابۃ والوسطی امرأۃ ایمت من زوجھا ذات منصب وجمال حبست نفسھا علی یتاماھا حتی بانوا اوماتو[1]۔ |
میں اور چہرہ کارنگ بدلی ہُوئی عورت روزِ قیامت ان دو٢ انگلیوں کے مثل ہوں گے(راوی نے انگشتِ شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کرکے بتایا یعنی جیسے یہ دو٢انگلیاں پاس پاس ہیں یُونہی اسے روزِ قیامت میرا قُرب نصیب ہوگا)وہ عورت کہ اپنے شوہر سے بیوہ ہُوئی عزّت والی صورت والی با اینہمہ اُس نے اپنے یتیم بچّوں پر اپنی جان کو روك رکھا سبب بناؤ سنگھار کی حاجت نہیں)۔ |
حدیث٢: ابن شبران انس بن مالك رضی اﷲتعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ایما امرأۃ قعدت علی بیت اولادھا فھی معی فی الجنۃ[2]۔ |
جو عورت اپنی اولاد پر بیٹھی رہے گی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگی۔ |
حدیث ٣: ابویعلٰی حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے راوی،حضور سید عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
انا اول من یفتح باب الجنۃ الاانی اری امرأۃ تبادرنی فاقول لھا مالك ومن انت فتقول انا امرأۃ قعدت علی ایتام لی۔[3] |
سب سے پہلے جو دروازہ جنت کھولے گا وُہ میں ہُوں مگر میں ایك عورت کودیکھوں گا کہ مجھ سے آگے جلدی کریگی میں فرماؤ ں گا تجھے کیا ہے اور تُوکون ہے،وہ عرض کریگی میں وُہ عورت ہوں کہ اپنے یتیموں پر بیٹھی رہی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع