30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ام المومنین(ام سلمہ رضی اﷲعنہا)نے ٦٠ ھ عــــہ یا ٦١ یا ٦٢ میں وفات پائی،عمر شریف چوراسی ٨٤ برس کی ہوئی قالہ الواقدی وکثیر من العلماء نقلہ عنھم فی الاصابۃ [1]وھوالصواب کما فی الزرقانی(واقدی اور کثیر علماء نے یہی کہا ہے جن سے اصابہ میں نقل کیا اور یہی درست ہے جیسا کہ زرقانی میں ہے۔ت)اور حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے آخر شوال ٤ ھجری میں ان سے نکاح فرمایا ھوالصحیح کما فی الزرقانی(یہی صحیح ہے جیسا کہ زرقانی میں ہے۔ت)تو جس وقت انہوں نے ترك نکاح کے لئے عمر زیادہ ہونے کا عذر عرض کیا ہے تیس٣٠ سال کی نہ تھیں یہی کوئی چھبیس٢٦ستائیس٢٧ برس کی عمر تھی رضی اﷲتعالٰی عنہا۔یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے ابن سعد انہیں ام المومنین رضی اﷲتعالٰی عنہا سے راوی کہ انہوں نے فرمایا:
|
بلغنی انہ لیس امرأۃ یموت زوجھا وھو من اھل الجنۃ وھی من اھل الجنۃ ثم لم تزوج بعدہ الاجمع اﷲ بینھما فی الجنۃ۔ |
جس عورت کا شوہر مرجائے اور وہ دونوں جنتی ہوں پھر عورت اُس کے بعد نکاح نہ کرے تو اﷲتعالٰی اُن دونوں کو جنت میں جمع فرمائے۔ |
اسی بنا پر اُنہوں نے حضرت ابوسلمہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے کہا تھا آؤ ہم تم عہد کریں کہ جو پہلے مرجائے دوسرا اس کے بعد نکاح نہ کرے،مگر یہ علمِ الہی میں امہات المومنین میں داخل ہونے والی تھیں،حضرت ابوسلمہ نے قبول نہ فرمایا [2]رواہ من طریق عاصم الاحول عن زیاد بن ابی مریم عنھا رضی اﷲتعالٰی عنہا(اس کو بطریق عاصم احول،زیاد بن ابی مریم سے روایت کیا اور انہوں نے ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے روایت فرمایا۔ت)
|
عــــہ: صحح الاوّل الیعمری والثانی ابو عمر بن عبد البر والثالث الحافظ التقریب وھناك تصحیح رابع وھو ٥٩ صححہ القسطلانی فی المواھب قال الزرقانی وھو معارض بھذہ التصحیحات [3]واﷲتعالٰی اعلم۔ (م) |
اول کو یعمری،ثانی کو ابوعمر بن عبد البر اور ثالث کو حافظ نے تقریب میں صحیح قرار دیا اور یہاں ایك چوتھی تصحیح ٥٩ھ کی بھی ہے جس کو قسطلانی نے مواہب میں صحیح قرار دیا، زرقانی نے فرمایا کہ وہ ان تصحیحات کے معارض ہے، واﷲتعالٰی اعلم١٢منہ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع