30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اگر دوسرے کےلئے کچھ خریدا تو شراء اس مشتری پر نافذ ہوگی جبکہ اسے دوسرے کی طرف مضاف نہ کیا ہو، ہاں اگر یُوں کہا ہو کہ یہ شئی فلاں کےلئے بیع کر، اس پربائع نے کہا میں نے فلاں کےلئے بیع کی تو یہ شراء موقوف ہوگی۔ |
٢٥٥ |
باب نکاحُ الکافر |
٢٦١ |
|
وقت شادی زید کے والدین حسب دستور جوڑے چڑھائے، بعد نکاح لڑکی کے والدین نے کچھ زیور جوڑے جہیز میں دئے، پھر زید نے کچھ زیور بنوادیا، علاوہ معمولی کپڑوں کے کچھ کپڑا بھی، عورت نے شوہر کے مرتے وقت پر بلکہ اب تك مہر میں معاف نہ کیا اس مال کا مالك کون ہے، مہر کی ادا کس کے ذمہ ہے۔ |
٢٥٦ |
زید قادیانی ہوگیا، اس کی عورت مسلمان ہی رہی ، کیا حکم ہے۔ |
۲۶۱ |
|
دادوستد معتاد ومعروف کہ درانتظام مناکحت مروج است ازروئے شرع شریف جائزست، اگر چیزے ونقدے بنابرعرف از ناکح گرفتہ میشود خواہ بشرط یا بغیر شرط چنانکہ دربنگالہ وبرہما د ستور است کہ قبل نکاح بطور ساچق وخرچہ ضیافت احباب طرفین مے گیرند جائز خواہد شد یا نہ شد الخ۔ |
٢٥٦ |
مسلمان کا نصرانیہ یا مجوسیہ سے نکاح ہوسکتا ہے یانہیں۔ |
٢٦٢ |
|
قبل عقد حسبِ رواج کچھ زیور لڑکی کودیا، رخصت سے قبل دامادکا انتقال ہوگیا، اس صورت میں وُہ زیور قابلِ واپسی ہے یانہیں۔اکثر زیور عاریت لے کر بھی چڑھایا جاتا ہے جو بعد رخصت واپس آجاتا ہے، یہ شخص بہت قلیل المعاش ہے اس کے والدین اتنی حیثیت نہیں رکھتے کہ اتنی مالیت کو بعد رخصت موہوبہ سمجھ لیں اور رواج بھی یہی ہے کہ ایسا چڑھاوا واپس لے لیاجاتا ہے۔ |
٢٥٨ |
عورت نے شریعت کی توہین کی تو کیا وہ مرتدہ ہوگئی اورنکاح فسخ ہوگیا۔ |
٢٦٣ |
|
چڑھاوے کا کیا حکم ہے آیا جائز ہے یانہیں۔ |
٢٥٩ |
کیا اب شوہر بے طلاق دئے اس سے تعلق ترك کرسکتا ہے اور کوئی مواخذہ تونہ ہوگا۔ |
٢٦٣ |
|
لگن کا حکم اور یہ کہ وُہ کس کی ملك ہے۔ |
٢٥٩ |
ہندہ تجدید ایمان کرلے تو کیا زیدوہندہ تجدیدِ نکاح پر شرعًا مجبور ہیں۔ |
٢٦٣ |
|
زید بچپن سے اپنے باپ کے ساتھ بیو پار کرتا تھا اپنے باپ کے ماتحت تھا اور کام بھی کرتا تھا اس کی شادی اس کے باپ عمرو نے کی، زید مرگیا، عورت اپنے خسر سے جہیز اور اپنامال وزر اور وُہ مال جو نسبت کے وقت اسے دیاگیا تھا یعنی چڑھاوا اور مہر طلب کرتی ہے کیا حکم ہے۔ |
٢٥٩ |
بعد تجدید ایمان عورت بلااجازت شوہر دوسر انکاح کرسکتی ہے۔ |
۲۶۳ |
|
|
|
کیا ہندہ کا نفقہ ایسی صورت میں زید پر واجب ہوگا۔ |
٢٦٣ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع