30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(٦)اگر ذرابھی اس کا اندیشہ ہوتو اس کے حق میں نکاح سنّت نہ رہے گا صرف مباح ہوگا بشرطیکہ اندیشہ حدِ ظن تك نہ پہنچے ورنہ اباحت جدا سرے سے ممنوع وناجائز ہوجائے گاکما سبق(جیسا کہ پیچھے گزرا۔ت)درمختار میں ہے :
|
یکون سنۃ مؤکدۃ فیاثم بترکہ(مع الاصرار)حال الاعتدال(ای الاعتدال فی التوقان ان لایکون بالمعنی المارّفی الواجب والفرض وھوشدّۃ الاشتیاق وان لایکون فی غایۃ الفتور کالعنین ولذا فسرہ فی شرحہ علی الملتقٰی بان یکون بین الفتور والشوق وفی البحروالمراد حالہ عدم الخوف من الجور وترك الفرائض والسنن فلو خاف فلیس معتدلا فلایکون سنۃ فی حقہ کما افادہ فی البدائع،وترك الشارح قسما سادسا ذکرہ فی البحرعن المجتبٰی وھوالاباحۃ ان خاف العجز عن الایفاء بمواجبہ اھ ای خوفا غیر راجح والاکان مکر وھا تحریما لان عدم الجور من مواجبہ [1]اھ ملتقطا مزید امن ابن عابدین۔ |
اور حال اعتدال میں نکاح سنّتِ مؤکدہ ہوتا ہے جس کے (باصرار)ترك پر گناہ لازم ہوتا ہے(اعتدال سے مراد یہ ہے کہ غلبہ شہوت اس حد تك پہنچا ہوا نہ ہو جیسا کہ نکاحِ واجبِ وفرض میں گزرا یعنی جماع کا اشتیاق شدید اور نہ ہی انتہائی طور پر کمزور اور قاصر ہو جیسا کہ عنین۔اسی واسطے شرح منتقٰی میں اس کی تفسیر یُوں فرمائی کہ وُہ فتور اور شوق کے درمیان ہو۔بحر میں ہے کہ اس سے مراد آدمی کا وہ حال ہے جس میں اسے ظلم،ترك فرائض اور ترك سُنن کا خوف نہ ہو،اور اگر اسے ان امورکا خوف ہے تو وہ معتدل نہیں،لہذا اس کے لئے نکاح سنت نہیں ہوگا جیسا کہ بدائع میں اس کا افادہ فرمایا،اور شارح نے نکاح کی چھٹی قسم کا ذکرنہیں فرمایا جس کو بحر مجتبٰی سے ذکر کیا اور وُہ ہے نکاح کا مباح ہونا جبکہ لوازمِ نکاح راجح نہ ہو ورنہ مکروہ تحریمی ہوگا کیونکہ عدمِ جور لوازمِ نکاح میں سے ہے اھ ملتقطا__زائد عبارتیں ابن عابدین سے لی گئی ہیں۔ (ت) |
حکم بحالت سنیت بیشك نکاح کی ترغیب بتاکید کی جائے اور اس سے انکار پرسخت اعتراض پہنچتا ہے اسی قدر جتنا ترك سنت پر چاہئے اور درصورت اباحت نہ نکاح پراصلا جبر کا اختیار نہ اس سے انکار پر کچھ اعتراض وانکار کہ مباح وشرع مطہر نے مکلّف کی مرضی پر چھوڑا ہے چاہے کرے یانہ کرے،پھر انصاف
[1] درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ١/٨٥،ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٢٦١
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع