30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الجور لو تزوج قدم الثانی افتراض بل یکرہ افادہ الکمال فی الفتح ولعلہ لان الجور معصیۃ متعلقۃ بالعبادوالمنع من الزنا من حقوق اﷲتعالٰی وحق العبد مقدم عند التعارض لاحتیاجہ وغنی المولٰی تعالٰی اھ)ویکون مکروھا(ای تحریما،بحر)لخوف الجور فان تیقنہ(ای الجور)حرم[1]اھ ملخصا مزید امن رد المحتار مابین الخطین۔اقول: ویؤید تعلیل البحر حدیث ابن ابی الدنیا وابی الشیخ عن جابر بن عبداﷲ وابی سعید الخدری رضی اﷲتعالٰی عنہم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایاکم والغیبۃ فان الغیبۃ اشد من الزنا ان الرجل قدیزنی ویتوب فیتوب اﷲعلیہ وان صاحب الغیبۃ لایغفرلہ حتی یغفرلہ صاحبہ[2]۔
|
تو ثانی کا اعتبار مقدم و راجح ہوگا چنانچہ اس صورت میں نکاح فرض نہیں بلکہ مکروہ ہوگا،کمال نے فتح میں اس کاافادہ فرمایا،شاید خوف جو رکو خوفِ زنا پر مقدم کرنے کی وجہ یہ ہو کہ جَورو ظلم ایسا گناہ ہے جس کا تعلق حقوق العباد سے ہے،اور زنا سے باز رہنا حقوق اﷲ سے ہے اورحق عبد بوقت تعارض حق اﷲ پر مقدم ہوتا ہے کیونکہ عبد محتاج ہے اور مولٰی تعالٰی غنی ہے اھ)اور اس صورت میں نکاح مکروہ یعنی مکروہ تحریمی ہوگا جبکہ ظلم کا خوف ہو اور اگر ظلم کا یقین ہوتو حرام ہے۔ قوسین میں زائد عبارتیں ردالمحتار سے لی گئی ہیں، اقول:(میں کہتا ہوں کہ)بحر کی بیان کردہ علت کی تائید کرتی ہے ابن ابی الدنیا اور ابوالشیخ کی وُہ حدیث جس کو حضرت جابر بن عبدا ﷲاور حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲتعالٰی عنہم نے نبی کریم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے روایت فرمایا کہ غیبت سے بچو کیونکہ غیبت زناء سے سخت تر ہے،اس لئے کہ آدمی زناء کرتا ہے اور توبہ کرلیتا ہے تو اﷲتعالٰی اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے،اور غیبت کرنے والے کی مغفرت اس وقت تك نہیں ہوتی جب تك کہ وہ معاف نہ کرے جس کی غیبت کی گئی(ت) |
(٥)اگر حاجت کی حالت اعتدال پر ہویعنی نہ نکاح سے بالکل بے پروائی نہ اس شدّت کاشوق کہ بے نکاح وقوعِ گناہ کا ظن بالیقین ہو ایسی حالت میں نکاح سنّت ہے مگر بشرطیکہ عورت اپنے نفس پر اطمینان کافی رکھتی ہو کہ مجھ سے ترك اطاعت اور حقوقِ شوہر کی اضاعت اصلًا واقع نہ ہوگی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع