30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو ٹھیك اطلاع ہوتی ہے جب وُہ بیان کرے کہ مجھے ایسی حاجت نہیں تو خواہی نخواہی اس کی تکذیب کی طرف کوئی راہ نہیں ہوسکتی عُمر وغیرہ کا مظنہ سب جگہ ایك سا نہیں ہوتامزاج،عقل،حیا،خوف،اشغال،احوال،ہموم،افکار،صحبت،اطوارصد ہا اختلافوں سے مختلف ہوجاتا ہے جس کی تفصیل اہلِ عقل وتجارب پر خوب روشن ہے،درمختار میں ہے :
|
یکون واجبا عند التوقان(المراد شدۃ الاشتیاق کما فی الزیلعی بحیث یخاف الوقوع فی الزنا لولم یتزوج اذلایلزم من الاشتیاق الی الجماع الخوف المذکور، بحر)فان تیقن الزناالابہ فرض،نھایۃ(ای بان کان لایمکنہ الاحتراز من الزنا الّابہ لان مالایتوصل الی ترك الحرام الابہ یکون فرضابحر،وقولہ لایمکنہ الاحتراز الابہ ظاھر فی فرض المسألۃ فی عدم قدرتہ علی الصوم المانع من الوقوع فی الزنا فلو قدر علی شیئ من ذٰلك لم یبق النکاح فرضا،او واجبا عینا بل ھو أوغیرہ مما یمنعہ من الوقوع فی المحرم)وھذا ان ملك المھر والنفقۃ والافلااثم بترکہ بدائع (ھذا الشرط اثم الی القسمین اعنی الواجب والفرض وزاد فی البحر شرطا اٰخر فیھما وھو عدم خوف الجور ای الظلم قال فان تعارض خوف الوقوع فی الزنا لو لم یتزوج وخوف |
اور غلبہ شہوت کے وقت نکاح واجب ہوتا ہے(اس سے مراد بقول امام زیلعی کے ایسا شدید اشتیاقِ جماع ہے کہ اگر نکاح نہ کرے گا تو وقوعِ زنا کا خوف ہے کیونکہ محض اشتیاقِ جماع کو خوف مذکور لازم نہیں،بحر)پس اگر نکاح کے بغیر زنا یقینی ہوتو نکاح فرض ہے،نہایہ(یعنی نکاح کے بغیر زنا سے بچنا ممکن نہ ہو کیونکہ جس کے بغیر ترك حرام رسائی نہ ہو وہ فرض ہوتا احتراز ممکن نہیں،ظاہر ہے کہ مسئلہ کی وُہ صورت فرض کی گئی ہے جس میں ناکح روزے رکھنے پر قادر نہ ہو جو کہ زنا سے مانع ہیں لہذا اگر وہ روزے رکھنے پر قادر ہو تو نکاح فرض یا واجب عین نہ ہوگا بلکہ اسے اختیار ہوگا کہ نکاح کرے یا حرام یعنی زنا سے بچنے کا کوئی اور طریقہ اپنائے)اوریہ وجوب وفرضیتِ نکاح اس صورت میں ہے جب وُہ مہر ونفقہ پر قادر ہو ورنہ ترك نکاح میں گناہ نہیں،بدائع(یہ شرط دونوں قسموں یعنی نکاح واجب وفرض کی طرف راجح ہے۔ بحر میں ان دونوں قسموں میں ایك اور شرط کا اضافہ فرمایا ہے اور وُہ یہ ہے کہ جو رو ظلم کا ڈر نہ ہو،صاحبِ بحر نے فرمایا کہ عدمِ نکاح کی صورت میں خوفِ زنا نکاح کی صورت میں جوروظلم کے خوف سے متعارض ہو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع