30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وانا اقول: وباﷲالتوفیق(اورمیں کہتا ہوں اور اﷲ تعالٰی ہی سے توفیق حاصل ہوتی ہے۔ت)حق اس مسئلہ میں یہ ہے کہ نکاح ثانی مثل نکاح اول فرض،واجب،سنّت،مباح،مکروہ،حرام سب کچھ ہے صور واحکام کی تفصیل سُنیے:
(١)جس عورت کو اپنے نفس سے خوف ہو کہ غالبًا اس سے شوہر کی اطاعت اور اُ س کے حقوق واجبہ کی ادانہ ہوسکے گی اسے نکاح ممنوع وناجائز ہے اگر کرے گی گنہگار ہوگی،یہ صورت کراہت تحریمی کی ہے۔
(٢)اگر یہ خوف مرتبہ ظن سے تجاوز کرکے یقین تك پہنچا جب تو اُسے نکاح حرام قطعی ہے۔
حکم ایسی عورتوں کو نکاح اول خواہ ثانی کی ترغیب ہرگز نہیں دے سکتے بلکہ ترغیب دینی خود خلاف شرع ومعصیت ہے کہ گناہ کا حکم دینا ہوگا یہ عورتیں یا ان کے اولیاء اگر نکاح سے انکار کرتے ہیں انہیں انکار سے پھیرنے والا جاہل ومخالفِ شرع۔
(٣)جنہیں اپنے نفس سے ایساخوف نہ ہو انہیں اگرنکاح کی حاجت شدید ہے کہ بے نکاح کے معاذاﷲگناہ میں مبتلا ہونے کا ظن غالب ہے تو ایسی عورتوں کو نکاح کرنا واجب ہے۔
(٤)بلکہ بے نکاح معاذاﷲ وقوع حرام کا یقین کُلی ہوتو اُنہیں فرض قطعی یعنی جبکہ اُس کے سوا کثرت روزہ وغیرہ معالجات سے تسکین متوقع نہ ہو ورنہ خاص نکاح فرض وواجب نہ ہوگا بلکہ دفع گناہ جس طریقہ سے ہو۔
حکم ایسی عورتوں کو بیشك نکاح پر جبر کیا جائے اگر خود نہ کریں گی وُہ گنہگار ہوں گی،اور اگر ان کے اولیاء اپنے حدِ مقدورتك کوشش میں پہلوتہی کریں گے تو وُہ بھی گنہگار ہوں گے،ایسی جگہ ترك وانکار پر بیشك انکار کیا جائے مگر کتنا،صرف اتنا جو ترِك واجب وفرض پر ہوسکتا ہے،نہ یہ جاہلانہ جبر وتی حکم کہ جو انکار کرے کافر،جو روك دے کافر،جو نہ کرنے دے کافر،فرائض ادا کرنے یااُنکی ادا سے باز رکھنے پر آدمی کافر نہیں ہوتا جب تك ایسے فرض کی فرضیت کا منکر نہ ہو جس کا فرض ہونا ضروریاتِ دین سے ہے،پھر ترك واجب وفرج پر جس قدر انکار وتشدّدکرسکتے ہیں وہ بھی یہاں اس وقت روا ہوگا جب معلوم ہو کہ اس عورت سے اطاعت وادائے حقوق واجبہ شوہر کا ترك متیقن یا مظنون نہیں کہ ایسی حالت مین تو فرضیت ووجوب درکنار عدمِ جواز و حرمت کا حکم ہے،پھر یہ بھی ثابت ہو کہ اس عورت کی حالتِ حاجت اس حد تك ہے کہ نکاح نہ کرے گی تو گناہ میں مبتلا ہوجانے کا یقین یا ظن غالب ہے کہ بغیر اس کے وجوب اصلًا نہیں،اور جب کسی خاص عورت کے حق میں یہ امور بروجہ شرعی ثابت نہ ہوں تو مسلمان پر بدگمانی خودحرام،اور محض اپنے خیالات پر تارك فرض و واجب ٹھہرادینا بیباك کا کام،پھر امر حاجت میں عورت کا اپنا بیان مقبول ہوگا کہ حاجت نکاح امر خفی و وجدانی ہے جس پر خود صاحبِ حاجت ہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع