30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الیھا دراھم ثم مات الاب وطلب سائر الورثۃ لا میراث من ھذا المال المبعوث،فقال ان تمت الوصلۃ بینھما فھو ملك لابنہ وان لم تتم فھو میراث،وان کان الاب حیایرجع الی بیانہ،وسئل والدی عمن بعث الی الخطیبۃ سکرا وجوزاوتمرًا و غیرھا ثم بدالھم فترکو ا المعاقدۃ ھل لھذا الخاطب ان یرجع علیھم باسترداد مادفع فقال ان فرق ذلك علی الناس باذن الدافع لیس لہ حق الرجوع وان لم یأذن لہ فی ذٰلك فلہ ذٰلك کذافی التتارخانیۃ١[1]اھ قولہ فھو ملك لابنہ اقول: انت تعلم ان ھذا یرادعلی العرف فان کان العرف ان یراد بذلك تملیك العروس فھو ملکھا لاملك الزوج کما لایخفی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کے لئے کسی لڑکی سے منگنی کی اور اس لڑکی کوکچھ درہم بھیجے پھر یہ باپ مرگیا تو اس کے وارثوں نے اس مال سے میراث طلب کی جو لڑکی کو بھیجی گئی تھی،توامام ابو حامد نے فرمایا کہ اگر ان دونوں میں تعلق تام ہوگیا ہے تو وُہ مال اس کے بیٹے کی ملك ہوگا،اور اگر تعلق تام نہیں ہوا تو وُہ میراث ہوگا اور اگر باپ زندہ ہوتو اس کے بیان کی طرف رجوع کیا جائے گا۔اور میرے والد سے پُوچھا گی اکہ ایك مرد نے اپنی منگیتر کی طرف شکر،اخروٹ،بادام اور چھوہارے وغیرہ بھیجے پھر مرد والوں کی رائے میں آیا تو انہوں نے عقد ترك کردیا تو اکی اب اس مرد(خاطب)کے لئے جائز ہے کہ وُہ یہ بھیجی ہوئی چیزیں واپس لے،تو انہوں نے فرمایا کہ اگر لڑکی والوں نے یہ چیز اس مرد کے کہنے سے لوگوں میں تقسیم کردی ہیں تو وہ واپس لینے کا حق نہیں رکھتا،اور اگر اس نے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی تو واپس لینے کا حق رکھتا ہے،ایسا ہی تاتارخانیہ میں ہے اھ اس کا قول کہ وُہ بیٹے کی ملك ہوگا اقول:(میں کہتا ہوں)آپ کو معلوم ہے کہ اس کا دارومدار عرف پر ہے اگر عرف میں اس مراد دلہن کی ملکیت ہوتا ہے توا س کی ملك ہوگا نہ لڑکے کی،جیسا کہ مخفی نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
___________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع