30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حتی یدفع دراھم فدفع وتزوجھا یرجع بمادفع لانھا رشوۃ کذافی القنیۃ[1]۔ |
پیغامِ نکاح بھیجا تو اس کے بھائی نے اس شرط پر نکاح دینے کا اظہار کیا کہ وہ اس عورت کے بھائی کو کچھ درہم دے تو اس شخص نے وہ درہم دے دئے تو اس کے بھائی نے اس کانکاح اس مردسے کردیا اب وہ درہم واپس لے سکتا ہے کیونکہ یہ رشوت ہے۔ایسے ہی قنیہ میں بھی ہے۔(ت) |
اور اگر یہ صورتیں نہیں بلکہ رسم ہے کہ نکاح سے پہلے دُولہا کی طرف سے کچھ روپیہ دُلہن کی طرف جائے جیسے ہمارے بلاد میں گہنا اور جوڑا جاتا ہے جسے چڑھاوا کہتے ہیں،اگر نکاح ہوجائے تو ہوجائے ورنہ وُہ مال واپس دیاجائے تو اس میں کچھ حرج نہیں،اور اس کا وہی حکم ہے کہ اگر نکاح ٹھہرے گا تو واپس دیاجائے گا۔
|
فی الھندیۃ سئل من علی بن احمد عمن ارسل الٰی اھل خطیبتہ دنانیر ثم اتخذوالہ ثیابا کما ھو العادۃ،ثم بعد ذلك یقول ھو نقد تھا من المھر ھل یکون القول قولہ فقال القول قول الباعث،قیل لہ لودفع الیھم دنانیر فقال انفقوا البعض الی اجرۃ الحائك والبعض الٰی ثمن الشاۃ للشراء والبعض الی الجوزقۃ کما ھو العادۃ،ثم فعلواذلك فزفت الیہ ثم بعد ذلك یدّعی انی بعثت الدنانیر لاجل المھر یقبل قولہ قال اذا صرح بالقول لایقبل قولہ فی التعیین،وسئل ابوحامد عن رجل خطب لابنہ خطیبۃ وبعث |
ہندیہ میں ہے کہ علی بن احمد سے ایسے شخص کے بارے میں پُوچھا گیا جس نے اپنی منگیتر والوں کو کچھ دینار بھیجے پھر انہوں نے حسبِ عادت اس شخص کے لئے کپڑے بنادئے،اب وہ کہتا ہے کہ میں نے دینار مہر میں دئے تھے تو کیا اس کاقول معتبر ہوگا،تو انہوں نے کہا کہ بھیجنے والے کی بات معتبر ہوگی،عرض کی گئی کہ اگر وہ منگیتر والوں کو دینار دے کر کہے کہ اس میں سے کچھ جولا ہے کی مزدوری میں خرچ کردوکچھ بکری خرید لو اسکی قیمت میں خرچ کردو اور دیگر رسم ورواج میں حسبِ عادت خرچ کردو،پھر اہلِ مخطوبہ نے ایسا ہی کیا اور وُہ عورت اس کے پاس بھیج دی گئی اب وُہ کہتا ہے کہ میں نے وہ دینار مہرمیں بھیجے تھے تو کیا اس کا قول تسلیم کیا جائے گا،آپ نے فرمایا کہ جب اس نے قول کے ساتھ تصریح کردی ہے تو اب تعیین میں اس کا قول معتبر نہ ہوگا۔امام ابوحامد سے پوچھا گیا کہ ایك شخص نے اپنے لڑکے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع