30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لایخطب الرجل علی خطبۃ اخیہ حتی ینکح اویترک[1]۔اخرجہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
کوئی مرد اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام نہ دے یہاں تك کہ وہ نکاح کرلے یا چھوڑدے۔شیخین نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت فرمایا۔(ت) |
یہ جُدا بات ہے مگر نکاح بے نسبت چُھڑائے بھی کردیاجائے گا تو نکاح میں کچھ نقص نہیں کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت) واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔)
مسئلہ ١١١: موضع علاقہ جاگل تھانہ ہری پور ڈاك خانہ کوٹ نجیب اﷲخاں مرسلہ مولوی شیر محمد صاحب ٢٣رمضان ١٣١١ھ
کیا فرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نسبت یانکاح کے وقت جو روپیہ لوگ لیتے ہیں حلال ہے یانہیں ؟
الجواب:
اگر وُہ روپیہ دینے والا اس لئے دیتا ہے کہ اس کے لالچ سے میرے ساتھ نکاح کردیں جب تو وہ رشوت ہے اس کا دینا لینا سب ناجائز وحرام۔
|
فی الھندیۃ انفق علی طمع ان یتزوجھا قال الاستاذ قاضی خاں الاصح انہ یرجع علیھا زوجت نفسھا اولم تزوج لانھا رشوۃ ٢[2]اھ ملخصا۔ |
ہندیہ میں ہے کہ مرد نے کسی عورت کو اس طمع پر خرچہ دیا کہ وہ اس سے نکاح کرے گی تو امام استاذ(قاضی خاں)نے فرمایا کہ اصح یہی ہے کہ وُہ اس عورت سے واپس لے سکتا ہے وہ عورت اس سے نکاح کرے یا نہ کرے کیونکہ یہ رشوت ہے اھ ملخصًا(ت) |
یُوں ہی اگر اولیائے عورت نے کہاکہ اتنا روپیہ ہمیں دے تو تجھ سے نکاح کردیں گے ورنہ نہیں جیسا کہ بعض دہقانی جاہلوں میں کفار ہنود سے سیکھ کر رائجہ تو یہ بھی رشوت و حرام ہے،
|
فی الھندیۃ خطب امرأۃ بیت اخیھا فابی ان یدفعھا |
ہندیہ میں ہے کہ مرد نے کسی عورت کو اس کے بھائی کے گھر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع