30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سکت عنھا صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فلم ینکحھا رضی اﷲتعالٰی عنہا[1]ملخصا۔ |
کی طرف واپس جااور قبل اس کے آپ کے لئے کوئی نئی بات ظاہر ہو ہاں کہہ دے،تو نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ وہ(ضباعہ)عمر رسیدہ ہیں۔چنانچہ جب ان کا بیٹا واپس آیا اس حال میں کہ انہوں نے نکاح کی اجازت دے دی تو نبی کریم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے سکوت فرمایا ا ور ان سے نکاح نہ فرمایا اھ ملخصًا(ت) |
اور اگر کوئی عذر ومصلحت نہیں بلاوجہ نسبت چھڑائی جاتی ہے تویہ صورت مکروہ تنزیہی ہے،
|
وھو محمل مافی ردالمحتار من ھنا تعلم ان خلف الوعد مکروہ لاحرام وفی الذخیرۃ یکرہ تنزیھا لانہ خلف الوعد ویستحب الوفاء بالعھد[2]۔ |
اور یہی محمل ہے اس کا جو ردالمحتار میں ہے،یہاں سے توجان جائے گا کہ وعدہ خلافی مکروہ نہ کہ حرام،اور ذخیرہ میں ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ یہ خلف وعد ہے اور وفاءِ عہد مستحب ہے(ت) |
یہ بات اس تقدیر پربے جاوخلافِ مروّت ہے مگر حرام وگناہ نہیں،حضور پُرنور سیّدالعالمین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لیس الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان یفی ولکن الخلف ان یعدالرجل ومن نیتہ ان لایفی[3]۔رواہ ابو یعلی فی مسند عن زید بن ارقم رضی اﷲتعالٰی عنہ بسند حسن۔ |
وعدہ خلافی یہ نہیں کہ مرد وعدہ کرے در انحالیکہ اس کی نیّت وعدہ کو پورا کرنے کی ہو،لیکن وعدہ خلافی یہ ہے کہ مردوعدہ کرے درانحالیکہ اس کی نیت اس وعدہ کو پورا نہ کرنے کی ہو۔اس کو ابویعلی نے اپنے مسند میں حضرت زید ارقم رضی اﷲتعالٰی عنہ سے بسندِ حسن روایت فرمایا۔(ت) |
اس صورت میں یہ کراہت ہی دفع ہوگی کہ پہلے جہاں نسبت کی تھی وُہ بخوشی اجازت دے دیں،یہ تو نسبت چھڑانے کا حکم تھا،رہادوسری جگہ نکاح کرنا اس میں کسی طرح کوئی خلل نہیں خواہ یہاں تینوں صور مذکورہ سے کوئی صورت واقع ہوکہ نسبت بہر حال صرف وعدہ ہی وعدہ تھی کوئی عقد نہ تھی کہ اب بے موت یا طلاق دوسری جگہ نکاح نہ ہوسکے ہاں جب تك وہاں سے نسبت چُھوٹ نہ جائے دوسروں کو پیام دینے کی ممانعت ہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع