30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہندہ اپنا نفقہ ساقط کرے تو اختیار کہ نہ دے جب تك ہندہ پھر از سرِ نو مطالبہ پر نہ آئے،اور اگر ہندہ اپنے والدین کے یہاں چلی جائے اور شوہر کے بُلانے پر نہ آئے تو آپ ہی اس کا نفقہ ساقط ہے جب تك واپس نہ آئے۔واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ١٠٩: از کانپور طلاق محال مطب حکیم نورالدین صاحب مسئولہ عبید اﷲصاحب ٤شوال ١٣٣٩ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ہندہ نابالغہ ١٢ سال کی جو مجامعت کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے اس کا ولی اُسے شوہر کے یہاں جانے سے روك سکتا ہے یانہیں؟ بینو اتوجروا
الجواب:
جب بارہ١٢ سال کی ہے ضرور متحمل ہوسکتی ہے مگر کسی صورت نادرہ میں کہ بہت کمزور نازك ہوا ور مرد دیوقامت قوی الجثّہ کہ واقعی عدم تحمل مظنون ہو،تو اس صورت میں بیشك روك سکتا ہے،،اور عند الاختلاف اس کا فیصلہ رائے قاضی سے ہوگاوہ دیکھ کر تجویز کرے گا کہ عورت تحمل کرسکتی یانہیں۔ردالمحتار میں ہے:
|
قد صرحواعند نا بان الزوجۃ اذاکانت صغیرۃ لا تطیق الوطی لاتسلم الی الزوج حتی تطیقہ و الصحیح انہ غیر مقدر بالسن بل یفوض الی القاضی بالنظرالیھامن سمن اوھزال وقد منا عن التاتر خانیۃ ان بالغۃ اذاکانت لاتحمّل لایؤمر بد فعھا الی الزوج ایضا فقولہ لاتتحمل یشمل مالوکان لضعفھا اوھزالھا اولکبراٰلتہ١[1]اھ۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
تحقیق انہوں نے تصریح فرمائی کہ زوجہ جب صغیرہ ہو اور وطی کی طاقت نہ رکھتی ہوتو اس کو شوہر کے حوالے نہیں کیا جائے گا جب تك کہ وہ وطی کے قابل نہ ہوجائے،اور صحیح یہ ہے کہ اس میں عمر کی کوئی حد مقرر نہیں بلکہ قاضی کی رائے پر چھوڑاجائے گاکہ وُہ دیکھے کہ زوجہ قوی ہے یا کمزور۔اورہم تاتارخانیہ سے سابق میں ذکر کرچکے ہیں کہ حوالے کرنے کا حکم نہیں دیاجائے گا،اور اس کا قول کہ"وہ وطی کی متحمل نہ ہو"ان دونوں صورتوں کو شامل ہے کہ وُہ عدمِ تحمل چاہے تو عورت کی کمزوری کی وجہ سے یامرد کے آلہ کی بڑائی کی وجہ سے ہو۔اوراﷲتعالٰی خوب جانتا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع