30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بینھما مطلقا فی النفقۃ،علی ان مطلقا ناظر الی المنفی دون النفی فیکون محصلہ سلب الاطلاق لا اطلاق السلب فانہ غیرسدید،والثانی ان یراد مایزاد علی النفقۃ من الھدایا والعطایا فلامانع من ایجاب التسویۃ بینھما بل ھو الظاہر نفیا للمیل المنھی عنہ اھ [1]ماکتبتہ وارجوان یکون صواباان شاء اﷲتعالٰی۔ واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
پس اس کا ثمر سلب اطلاق ہوگانہ کہ اطلاق سلب کیونکہ وہ درست نہیں۔دوسرایہ کہ مراد وُہ اشیاء ہوں جو اصل نفقہ سے زائد ہیں یعنی تحفے اور ہدیے وغیرہ،تو اب دونوں کے درمیان برابری کو واجب ٹھرانے سے کوئی مانع نہیں بلکہ یہی ظاہر ہے اس میل کی نفی کے لئے جس سے رد کا گیا ہے،میرے حاشیہ کی عبارت ختم ہُوئی اور مجھے امید ہے ان شاء اﷲتعالٰی وہ درست ہوگا۔اور اﷲسُبحانہ،وتعالٰی خُوب جانتا ہے۔(ت) |
مسئلہ ١٠٨: از شہر محلہ ربڑی ٹولہ مسئولہ احسان علی صاحب زردوز ١٢ ربیع الآخر ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت ہندہ کی چند اولاد یں ہُوئیں ان میں سے صرف ایك بچّہ چند سال کا دائم المریض حیات ہے اس ہندہ کو مرض ایسا سخت لاحق ہے کہ ہر بار سخت تکلیف اور مرض میں مبتلا ہوجاتی ہے اور مس ہر بار وقت ولادت یہی تجویز کرتی ہے کہ یہ عورت ضرور مرجائے گی مگر شافی مطلق برحق ہربار بعد تکلیف بسیار وخرچ کثیر کے اچھا کردیتا ہے چنانچہ حال میں بعد ولادت وصحت کے ہندہ نے اپنی جان بچانے اور ہر بار غم وصدمہ سے بچنے کے لئے عہد کیا کہ اب میں اپنے زوج سے جماع نہ کروں گی تاکہ اسبابِ نطفہ نہ واقع ہو،اور اپنے زوج سے کہا کہ تم کو صبر نہ آوے تو دوسری شادی کرلو اور جو مقدرت نہ ہوتو مجھے نان و نفقہ بھی نہ دو۔پس شوہر نے کہا کہ اگر شرع شریف تجھ کو اس امرکی اجازت دے تو مضائقہ نہیں میں صبر کرلُوں اور جو شرع اس عہد کی اجازت نہ دے تومیں اپنے حقوق اور منافع اور تیرے حقوق کو تلف ہرگز نہیں کرسکتا لہذاتحریر فرمائیں کہ شرعًا کیا حکم ہے؟بینواتوجروا
الجواب:
ایسی صورت میں شوہر ہندہ کے کہنے پر عمل کرسکتا ہے اور دُوسری شادی کرلے اور ہندہ سے جُدا رہے جب تك ہندہ راضی ہو،اور نان نفقہ ہندہ کو بھی ضرور دے اگر ہندہ اس کے یہاں رہے،اور اگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع