30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یجب ان یعدل ای لایجوز فی القسم بالتسویۃ فی البیتوتۃ وفی الملبوس والماکول والصحبۃ لافی المجامعۃ کالمحبۃ بل یستحب[1]۔ |
بیویوں میں عدل کرنا واجب ہے یعنی قسم میں ظلم نہ کرے بایں صورت کہ شب باشی،لباسِ خوردونوش اور صحبت وموانست میں برابری کرے نہ کہ جماع میں مثل محبت کے بلکہ جما ع میں برابری مستحب ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قال فی البحر قال فی البدائع یجب علیہ التسویۃ فی الماکول والمشروب والسکنی والبیتوتۃ وھکذا ذکر الولوالجی والحق انہ علی قول من اعتبر حال الرجل وحدہ فی النفقۃ واما علی القول المفتی بہ من اعتبار حالھما فلا،فان احدھما قدتکون غنیۃ والاخری فقیرۃ فلایلزم التسویۃ بینھما مطلقا فی النفقۃ [2]اھ ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ یقول العبد الضعیف غفرلہ بقی لہ مجملان اخران الاول ان تستوی المرأتان یسار او اعسار ا وح لامحل للتفاضل بینھما بل تجب التسویۃ فی الماکول والمشروب والملبوس والسکنی ایضا کالبیوتۃ مطلقا،والیہف الاشارۃ بقولہ فلایلزم التسویۃ
|
بحرمیں فرمایا کہ بدائع میں کہا ہے کہ کھانے،پینے، لباس، رہائش اور شب باشی میں شوہر پر مساوات واجب ہے ولوالجی نے بھی یُوں ذکرفرمایا اور حق یہ ہے کہ بے شك یہ اس کا قول ہے جس نے نفقہ میں فقط شوہر کے حال کا اعتبار کیا لیکن مفتی بہ قول میں چونکہ دونوں کا حل معتبر ہے تو اس کے مطابق نفقہ میں مطلقًا مساوات واجب نہیں کیونکہ کبھی دو٢ بیویوں میں سے ایك مالدار اور دوسری فقیر ہوتی ہے تو ان میں برابری لازم نہیں۔مجھے یاد ہے کہ میں نے اس پر حاشیہ لکھا ہے جس کی عبارت یُوں ہے بندہ ضعیف کہتا ہے کہ اس کے دو محمل اور بھی ہیں ایك یہ کہ دونوں عورتیں امیری اور فقیری میں برابر ہوں تو اس صورت میں ان دونوں کے درمیان نفقہ میں مطلقًا برابری لازم ہے اسی کی طرف اشارہ ہے اس کے اس قول میں کہ ان دونوں کے درمیان نفقہ میں مطلقًا برابری لازم نہیں اس بنیاد پر کہ"مطلقا"منفی کی طرف ناظر ہے نہ کہ نفی کی طرف، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع