30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مرتہن کا شئی مرہون سے انتفاع اگر باذنِ راہن بے شرط ہو توجائز ورنہ حرام، مگر ہمارے زمانے میں مطلقًا حکمِ حُرمت دیا جائیگا کو بے طمعِ نفع بہ مرہون قرض نہ دینے کا عُرف ورواج ہے۔ |
٢٢۸ |
مملك جہت تملیك کو زیادہ جانتا ہے۔ |
٢٣٢ |
|
جب دو امرمحتمل ہوگا مغلوب نامقبول ہوگا اورجہاں دونوں برابر ہوں وہاں تعیین مراد کاقول بقسم معتبر ہوگا۔ |
٢٢٩ |
ہبہ تاحینِ حیات ہبہ کاملہ ہے اور حینِ حیات کی شرط لغو وباطل ہے۔ |
۲۳۳ |
|
عرف غالب کا اعتبار ہوگا مغلوب نامقبول ہوگا اور جہاں دونوں برابر ہوں وہاں تعیین مراد کا قول بقسم معتبر ہوگا۔ |
٢٢٩ |
احدالمعاقدین کی موت رجوع ہبہ کے موانع میں سے ہے۔ |
٢٣٥ |
|
بیٹی کو جہیز دیا پھر مدعی ہوا کہ میں نے عاریۃً دیا تھا بیٹی کہتی ہے تملیکًایا اس کے مرنے کے بعد اس کا شوہر یہ کہتا ہوتو کس کا قول کب اور کس طرح معتبر ہوگا۔ |
٢٢٩ |
بحالت عدم عرف مدعی کا قول بقسم معتبر ہوگا یہ حکم باپ کےلئے ہے حقیقی ماں کو بھی اس سے عرفًالاحق کیاگیاہے۔ |
٢٣٦ |
|
جہاز میں جس کاقول معتبر ہوگا بقسم معتبر ہوگا۔ |
٢٣٠ |
ماں کا دعوٰی اختصاص محتاج بینہ ہونا چاہئے مگر دوصورتوں میں ، ایك یہ کہ باپ مال نہ رکھتا ہو، دوسرے یہ کہ ماں نے اس سے جدا ہوکر بطور خود تزویج کی ہو۔ |
٢٣٦ |
|
عرف جن خصوصیتوں کے ساتھ ہو سب کی رعایت واجب ہے۔ |
٢٣٠ |
لڑکی نے باپ کے مال سے دستکاری کرکے جہیز کا کچھ سامان تیار کیا ماں کے مرنے بعد باپ نے وہ سامان جہیز میں اسے دے دیا تو یہ سب اسی کاہے اسی کے بھائیوں کو حق نہیں کہ وُہ اسے ماں کا ترکہ قرار دے کر اپنا حصہ طلب کریں۔ |
٢٣٨ |
|
اگر ایك خاص مقدار تك حسبِ حیثیت جہیز دینے کا عرف ہو اور اس کے زائد عاریت تو اس مقدار تك تملیك سمجھیں گے اور زائد میں قول واقع بالاتفاق معتبر مانیں گے۔ |
٢٣٠ |
دادا باپ کی طرح ہے سوائے چند مسائل کے۔ |
٢٣٩ |
|
بیٹی کا باپ پر قرض تھا جہیز دیا پھر کہا میں نے قرضہ میں دیا ہے، بیٹی کہتی ہے نہیں اپنے مال سے توکس کا قول معتبر ہوگا۔ |
٢٣١ |
بی بی بےجہیز رخصت ہوکر آئی تو شوہر کو پانے خسر سے ان دراہم ودنانیز کا مطالبہ پہنچتا ہے جو اس نے بھیجے ہوں جبکہ بعد زفاف زمانہ دراز تك چُپ نہ بیٹھا ہو۔ |
٢٤٤ |
|
شوہر نے زوجہ کوکوئی چیز بھیجی، عورت کہتی ہے ہدیہ ہے، شوہر کہتا ہے مہر، تو کب، کس کا قول معتبر ہوگا۔ |
٢٣٢ |
زمانہ دراز سے کون سازمانہ مراد ہے۔ |
٢٤٤ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع