30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فواکہ وپان و الائچی وعطایا وہدایا،قسم اوّل میں برابری صرف اُس صورت میں واجب ہے جب دونوں عورتیں مال حا لت فقروغنا میں یکساں ہوں ورنہ لحاظ حا ل زوج کے ساتھ غنیہ کے لئے اس کے لائق واجب ہوگا اور فقیرہ کے لئے اس کے لائق مثلًا زوج اور ایك زوجہ دونوں امیر کبیر ہیں کہ اپنے اپنے یہاں اُن کی خوراك باقرخانی ومُرغ پلاؤ ہے،اور دوسری زوجہ فقیرہ ہے کہ جوار باجرے کی روٹی کھاتی ہے اور آپ پیستی پکاتی ہے،ان دونوں کے نفقہ میں مساوات واجب نہیں ہوسکتی،پہلی کے لئے وہی بریانی اور مرغ لازم ہے اور دوسری کے لئے گیہوں کی روٹی اور بکری کا گوشت،پہلی کے لئے خادم بھی ضرور ہوگا دوسری آپ خدمت کرلے گی،پہلی کریب اور زربفت پہنے گی دوسری کوتنزیب اور ساٹھن بہت ہے،پہلی کے لئے مکان بھی عالی شان درکار ہوگا دوسری کے لئے متوسط۔اور قسم دوم میں مطلقًا برابری چاہئے،جو چیز جتنی اور جیسی ایك کو دے اُتنی ہی اور ویسی ہی دوسری کو بھی دے۔دُودھ،چائے،میوے،پان،چھالیا،الائچی،برف کی قلفیاں،سُرمہ،مہندی وغیرہ وغیرہ تمام زوائد میں مساوات رکھے کہ وہاں فرق اصل وجوب میں تھا یہ اشیاء واجب نہیں ان میں ایك کو مرجح رکھنا اس کی طرف میل کرنا ہوگا اور میل ممنوع ہے فرمائشوں کا حال بھی یہیں سے واضح ہوگیا اگر اس نے وہ فرمائش اپنے نفقہ کے متعلق کی ہے اور وہ اسکی مستحق ہے اور دوسری مستحق نہیں تو اس پر لازم نہ ہو کہ دوسری کو بھی وہی چیز دے اور نفقہ سے زائدشَے کی تو برابری درکار ہوگی کہ وُہ بعد فرمائش بھی عطیہ کی حد سے خارج نہیں،
|
وقد قال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اکل بنیك نحلت مثل ھذا[1]قال لاقال لاتشھد نی علی جور[2] (ملخصًا) فاذاکان التفضیل فی العطایا جورا ومیلافی البنین ففی الازواج اولی واحری۔ |
حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تُونے پر بیٹے کو اس کی مثل تحفہ دیا۔صحابی نے عرض کی کہ نہیں،تو حضور نے فرمایا کہ مجھے ظلم پر گواہ مت بنا۔جب تحائف میں کمی بیشی بیٹوں کے اندر ظلم ومیل قرار پائی تو بیویوں میں بدرجہ اولی ظلم ومیل ہوگی۔(ت) |
اور چھپاکر دینے سے دونوں کی رضا سمجھنی غلطی ہے بلکہ جسے چھپاچھپاکردے گا وہ جان لے گی کہ میری جگہ اس کے قلب میں زائد ہے وُہ دوسری کا دبانے کی جرأت کرے گی اور یہ تخم فساد کا بونا ہوگا۔تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع