30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الدرالمختار یجب وظاہر الآیۃ انہ فرض نھران یعدل ای ان لایجوز فیہ ای فی القسم بالتسویۃ فی البیتوتۃ وفی الملبوس والماکول والصحبۃ[1]۔ |
درمختارمیں ہے واجب ہے اور آیت کا ظاہر یہ ہے کہ عدل کرنا فرض ہے(نہر)یعنی قسم ظلم نہ کرے بایں صورت کہ شب باشی،لباس،کھانے اور صحبت میں برابری قائم رکھے۔(ت) |
یہاں تك کہ اگر فرق کرے گا قیامت میں ایك طرف جھکا اٹھے گا،رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من کان لہ امرأتان فمال الی احدٰھمادون الاخر ی جاء یوم القیٰمۃ واحد شقیہ مائل[2]۔ |
جس کی دو٢ عورتیں ہوں وُہ ان میں سے ایك کی طرف میلان کرے اور دوسری کو نظر انداز کرے تو قیامت کے دن اس حال میں اُٹھے گا کہ اس کی ایك جانب جھکی ہوگی(ت) |
اور اُنہیں مکانِ واحد میں جبرًا رکھنا جائز نہیں بلکہ ہرایك کو مکان علیحدہ کا مطالبہ شوہر سے پہنچتا ہے،
|
فی الدرالمختار فلکل من زوجتہ مطالبتہ ببیت من دار علٰحدۃ[3]۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
درمختار میں ہے کہ دو٢ بیویوں میں سے ہرایك اپنے شوہر سے گھر کا علیحدہ مکان طلب کرسکتی ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔ (ت) |
مسئلہ ١٠۶:کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کی رعایت مساوات دو٢زوجہ میں مرد پر واجب ہے یا نہیں؟ اور اگر ان میں قومِ طوائف میں سے ہوتو کچھ فرق کیا جائے یانہیں؟ بینواتوجروا
الجواب:
مرد اپنی دو٢ زوجہ حرّہ کو کھلانے اور پہنانے اور پاس رہنے وغیرہا امور اختیار میں برابر رکھنا واجب ہے اور اس امر میں طوائف وغیر طوائف شریف و رذیل میں کچھ فرق نہیں کہ آیت قسم مطلق ہے۔
|
فی الدرالمختار یجب وظاہر الاٰیۃ انہ فرض"نہر"ان یعدل ای ان لایجور فیہ ای فی القسم بالسویۃ فی البیتوتۃ و |
درمختارمیں ہے واجب ہے اورآیت کاظاہر یہ ہے کہ عدل کرنا فرض ہے(نہر)یعنی قسم میں ظلم نہ کرے،بایں صورت کہ شب باشی،لباس،کھانے اور صحبت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع