30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ کرسکے یا ثبوت پیش کردہ اگر سمجھا جائے تو زید بعد ادخال ضمانت معتبر ہندہ کو اپنے ساتھ لے جانے کا مجاز ہے یانہیں؟ بینواتوجروا
الجواب:
اصل حکم ہے مرد جہاں رہے اپنی عورت کو اپنے ساتھ رکھے۔قال اﷲ تعالٰی:
|
اَسْکِنُوۡہُنَّ مِنْ حَیۡثُ سَکَنۡتُمۡ مِّنۡ [1]۔ |
عورتوں کووہیں ٹھہراؤ جہاں تم خود ٹہرو۔(ت) |
اور ساتھی ہی یہ حکم ہے کہ عورت کو ضرر نہ پہنچائے،اس پر تنگی نہ کرے قال اﷲتعالٰی:
|
وَ لَا تُضَآرُّوۡہُنَّ لِتُضَیِّقُوۡا عَلَیۡہِنَّ ؕ[2]۔ |
انہیں ضرر نہ پہنچاؤ کہ تم ان پر تنگی کرو(ت) |
جبکہ مہر معجل نہ تھا یعنی پیش از رخصت دینا قرار نہ پایا تھا تو عورت کو اپنے نفس کے روکنے کا کوئی اختیار نہیں،نہ اُس کا باپ اُسے شوہر سے جُدا کرسکتا ہے،ہاں اگر شوہر کی طرف سے عورت کو ضرر سانی وبلاوجہ شرعی ایذادہی بروجہ کافی ثابت ہو تو اُس کا بندوبست کیا جائے اگر چہ کچہری کے ذریعہ سے ضمانت داخل کرنے سے ظاہرًا یہ سمجھاجاتا ہے کہ زید کوئی ایسا کفیل معتمد پیش کرے گا جو زید کو ایذارسانی سے مانع ہوسکے اور عمرو وہندہ کو اس پراعتبار ہویا یہ معنٰی ہیں کہ کوئی ضامن دیاجائےگا۔کہ اگر زید ایذا رسانی کرے تو اتنا روپیہ جرمانہ کا بھرے اور وُہ نہ دے تو ضامن دے گا۔اگرمعنی اوّل مراد ہیں تو صحیح وقابلِ قبول ہیں اور معنی دوم مراد ہیں تو یہ شرعًا ناجائز باطل ہے مالی جرمانہ نہیں ہوسکتا لانہ منسوخ والعمل بالمنسوخ حرام(کیونکہ یہ منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا حرام ہے۔ت)اور اﷲتعالٰی خوب جانتا ہے۔
مسئلہ١٠٤: ازقادری گنج ضلع بیربھوم ملك بنگالہ مرسلہ ظہورالحسن صاحب ٢٣جمادی الاولٰی ١٣٣٦ھ
جماع کے وقت شوہر کا اپنی بی بی کی فرج دیکھنا تاکہ لذّتِ پور ی پوری حاصل ہو یا شوہر کا اپنی بی بی کی شرمگاہ کو مس کرنا اور عورت کا اپنے شوہر کے آلہ تناسل کو مس کرنا تاکہ آلہ تناسل ایستادہ ہوایسا کرنا جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
زوجین کاوقتِ جماع ایك دُوسرے کی شرمگاہ کو مس کرنا بلاشبہ جائز بلکہ بہ نیتِ حسنہ مستحق و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع