30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ماشاء من رأسھا الٰی قدمھا الامانھی اﷲتعالٰی عنہ،وکل ماذکر فی السؤال لانھی عنہ،اماالتقبیل فمسنون مستحب یؤجر علیہ ان کان بنیۃ صالحۃ واما مص ثدیھا فکذٰلك ان لم تکن ذات لبن،وان کانت واحترس من دخول اللبن حلقہ فلاباس بہ،وان شرب شیئا منہ قصدًا فھو حرام وان کانت غزیرۃ اللبن وخشی ان لومص ثدیھا یدخل اللبن فی حلقہ فالمص مکروۃ قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومن رتع حول الحمٰی اوشك ان یقع فیہ[1]۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
کر پاؤں تك جیسے چاہے لُطف اندوز ہو سوائے اس کے جس سے اﷲتعالٰی نے منع فرمایا ہے،اور سوال مذکور امور میں سے کسی سے منع نہیں کیا گیا۔بوسہ تومسنون ومستحب ہےاور اگرت بنیّت صالحہ ہو تو باعثِ اجروثواب ہے۔رہا پستان کو مُنہ میں دبانا،تو اس کا حکم بھی ایسا ہی ہے جب کہ بیوی دُودھ والی نہ ہوِ اور اگر وُہ دُودھ والی ہے اور مرد اس بات کا لحاظ رکھے کہ دودھ کا کوئی قطرہ اس کے حلق میں داخل نہ ہونے پائے تو بھی حرج نہیں،اور اگر اُس دُودھ میں سے جان بُوجھ کر کچھ پیا تو یہ پینا حرام ہے۔اور اگر وُہ زیادہ دُودھ والی ہے اور اُسے ڈر ہے کہ پستان منہ میں لے گا تودُودھ حلق میں داخل ہوگا تو اس صورت میں پستان کو منہ میں لینا مکروہ ہے۔حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چراگاہ کے ارد گرد(جانور)چرائے تو قریب ہے کہ وہ(جانور)چراگاہ میں جا پڑے۔اوراﷲ سبحٰنہ وتعالٰی خُوب جانتا ہے۔ |
السوال الثانی دوسرا سوال
|
وکم مدۃ یجوزلہ السفر حال کونہ مجردًا عنھا۔
|
بیوی کو چھوڑکرسفر پرجانے والے کے لئے کتنی مدّت تك سفر میں رہنا جائز ہے: |
الجواب:
|
السفر ان کان بضرورۃ تقدر بقدرہا ولایعین لہ حد وقدامر |
سفر اگر ضرورت کی وجہ سے ہوتو بقدر ضرورت ہوگا اس کی کوئی حد مقرر نہیں۔تحقیق حضور اقدس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع