30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دینے والادینے کی جہت کو بہتر جانتا ہے۔ |
٢٢١ |
(۴)شرح وقایہ میں ہبہ واپسی کا حکم ہے، کیا ہبہ جہیز اسی قسم کاہے۔ |
٢٢٨ |
|
بہن بھائی ترکہ میں شریك ہوں اور بھائی بہن کو جہیز دے تو یہ عرفًا ہبہ نہیں بخلاف والدین ان کا جہیز عرفًاہبہ ہوگا۔ |
٢٢١ |
(۵)جوشئی منجانب مدعیہ داماد کوملی ہو اس کی واپسی کا مدعیہ کو کیا حق ہے۔ |
٢٢٨ |
|
قبول علم کی فرع۔ |
٢٢٢ |
(۶)جو سامان مدعا علیہ نے وقت شادی اپنی بی بی کو دیا مدعیہ اسے بھی لے سکتی ہے۔ |
٢٢٨ |
|
اگر کسی نے کہا میں نے اپنے درختوں کے پھلوں کی لوگوں کو اجازت دی کہ جولے وہ اس کاملك ہے تو جن لوگوں کو واہب کے اس اذن کی خبر ہوئی وہ جوبھی لیں گے اس کے مالك بن جائیں گے مگر جو شخص اذنِ واہب سے بے خبر ہوگا وُہ جو کچھ لے گا اس کا مالك نہیں ہوگا۔ |
٢٢٢ |
(۷)مرحومہ کے حکم سے جو شئی اس کے صرف کےلئے رہن ہوئی اسے کون چھڑائے گا۔ |
٢٢٨ |
|
ہبہ مشاع محتمل قسمت صحیح نہیں اور نہ ہی مفید ملک۔ |
٢٢٥ |
جواب سوال اوّل تاچہارم۔ |
٢٢٨ |
|
ہبہ مشاع غیر متحمل قسمت کی شرط صحت یہ ہے کہ مقدار معلوم ہو۔ |
٢٢٥ |
بعض احکام شرع بحکم شرع عرف پردائر ہوتے ہیں۔ |
٢٢٨ |
|
فیض النساء نے اپنی سوتیلی لڑکی کی شادی کی، شادی کے ڈیڑھ برس بعد لڑکی مرگئی فیض کل سامانِ جہیز کی واپسی کو کہتی ہے کہ میں نے اپنے پاس سے یہ سب سامان کیا تھا اس لئے اس کی واپسی کی میں حقدار ہوں، سامانِ جہیز واپس لینے کا رواج مدراس میں جاری ہے۔لڑکی کا شوہرجواب دیتا ہے کہ زیور وغیرہ مرحومہ کے حکم سے اسکے معالجہ وغیرہ میں رہن رکھے ہوئے ہیں، اس کے علاوہ میرا بہت روپیہ صرف ہُوا، مرحومہ کے مرنے کے بعد اس کا لڑکا زندہ تھا وہ اسکے مال کا مالك ہوا اور اس کے بعد میں بطور باپ وارث ہوں، حکمِ شرعی کیا ہے۔ |
٢٢٧ |
اشیاء منقولہ میں اسے جنکا وقت معروف ہوجائز ہے ورنہ نہیں۔ |
٢٢٨ |
|
(١) مدراس میں لڑکی مرجائے تو جہیز واپس لینے کا رواج ہے کیا حکم ہے۔ |
٢٢٧ |
جن چیزوں کے استصناع کا رواج ہو ان میں اُجرت دے کر معدوم شئی کا بنواناجائز ہے ورنہ نہیں۔ |
٢٢٨ |
|
(٢) شرع میں رواجِ ملك کو کیادخل ہے۔ |
٢٢٨ |
شرائط بیع میں سے جوشرط مفسد معروف ہوجائے محتمل ہے ورنہ نہیں۔ |
٢٢٨ |
|
(۳) جہیز کا سامان عاریۃً سمجھا جائے گا یا تملیکًا۔ |
٢٢٨ |
|
|
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع