30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کُل احد یعلم ان الجھاز ملك المرأۃ لاحق لاحدٍ فیہ١ [1]۔ |
ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اس میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا(ت) |
اور چڑھاوے کا اگر عورت کو مالك کردیا گیا تھا خواہ صراحۃً کہہ دی تھا کہ ہم نے اس کا تجھے مالك کیا ی وہاں کے رسم و عرف سے ثابت ہوکہ تملیك ہی کے طور پر دیتے ہیں جب تو وُہ بھی عورت ہی کی ملك ہے ورنہ جس نے چڑھایا اس کی مِلك ہے باقی مال ورزجو اپنے باپ کے یہاں سے لائی یا شوہر یاشوہرکے باپ نے بطور تملیك اُس کو دیا یعنی ہبہ کرکے قبضہ دے دیا وہ بھی عورت ہی کی مِلك ہے اور اگر گھر کے خرچ کے لئے دیا اور مالك اس کا ذاتی مال ہو اُس سے وصول کرے شوہر کے باپ پر دعوٰی نہیں کرسکتی جب تك اُس نے کفالت نہ کرلی ہو عدّتِ طلاق کا نفقہ ہوتا ہے عدتِ موت کا نفقہ ہی نہیں جس کا وُہ کسی سے مطالبہ کرسکے اپنے پاس سے کھائے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
__________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع