30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ٨٩: ٢٥ربیع الآخر شریف١٣٢٠ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی جس وقت شادی ہُوئی توا س کے والدین حسبِ دستور جوڑے زیور وغیرہ چڑھایا اور بعد نکاح ہونے کے لڑکی کے والدین نے کچھ زیور اور جوڑے وغیرہ جہیز میں دیا بعدہ،کُچھ زیور نکاح کے بعد بنوادیا زید نے،اور کچھ کپڑا وغیرہ بھی علاوہ معمولی کپڑے کے،اور اس عورت نے وقت مرنے اپنے شوہر کے اور اب تك مہر بھی معاف نہیں کیا بلکہ مرتے وقت اُس کے پاس بھی نہیں گئی اور زید کے نام کچھ جائداد وغیرہ نہیں ہے،اس صورت میں اُس مال کا مالك کون ہوگا اور مہر کا ادا کرنا کسی کے ذمّے عائد ہوگا یا نہیں،اگر عائد ہوگا تو کس کے ذمّے ہوگا؟
الجواب:
جو کُچھ زیور،کپڑا،برتن وغیرہ
عورت کو جہیز میں ملاتھا اس کی مالك خاص عورت ہے اور جو کچھ چڑھاوا شوہر کے یہاں
سے گیا تھا اس میں رواج کو دیکھا جائے گا،اگر رواج یہ ہوکہ عورت ہی اس کی مالك سمجھی
جاتی ہے تو وُہ بھی عورت کی مِلك ہوگیا،اور اگر عورت مالك نہیں سمجھی جاتی ہے تو
وہ جس نے چڑھایا تھا اُسی کی مِلك ہے خواہ والدِ شوہر ہو یا والدہ یا خود شوہر۔اور
جو زیور زید نے بعد نکاح بنوایا اگر عورت کو تملیك کردی تھی یعنی یہ کہہ دیا تھا
کہ میں نے یہ زیور تجھے دے ڈالا تجھے اس کا مالك کردیا اور قبضہ عورت کا ہوگیا تو
یہ زیور بھی مِلك زن ہوگیا،اور اگر کہا کہ تجھے پہننے کو دیا تو شوہر کی مِلك رہا۔اور
اگر کچھ نہ کہا تو رواج دیکھا جائے گا،اسی طرح زیور بنادینے کو اگرعورت کی تملیك سمجھتے
ہیں تو بعد قبضہ عورت مالك ہوگی ورنہ مِلك شوہر پر رہا،عورت کا مہر ذمہ شوہر
ہے،اگر شوہر کاکچھ مال مثلًا یہی زیور کہ اس نے بنادیا تھا اور عورت کی مِلك اس
میں ثابت نہ ہوئی تھی،یا اور جو چیز مِلك شوہر پالے اُس سے وصول کرلے،اگر مِلك شوہر
کُچھ نہ ملے تو شوہر کے والدین وغیرہما سے کچھ مطالبہ کسی وقت نہیں کرسکتی جبکہ
انہوں نے مہرکی ضمانت نہ کرلی ہو اُس کامعاملہ عاقبت پر رہا اورافضل یہ ہے کہ شوہر
کو معاف کردے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٩٠: از ملك برہما شہر اکیاب تھانہ منگڈوچ پوسٹ آفس
ناکپورابازار موضع رامپور بیل مسئولہ ناظرعلی صاحب
|
دادوستد معتادومعروف کہ در مصالح انتظام مناکحت و مصاہرت مروج ومعروف ست ازروئے شرع شریف جائز است یا نہ،اگر چیزے ونقدے بنا بر عرف دیار خود از خاطب وناکح گرفتہ مع شود خواہ بشرط باشد بغیر چنانکہ دردیار بنگالہ |
عرف وعادت کے مطابق دینا اور لینا جو کہ شادی بیاہ کے انتظامی مصالح کے لئے مروج ومانوس ہے شرع شریف کی رُو سے جائز ہے یا نہیں،اگرکوئی چیز یا نقدی اپنے علاقے کے رواج کے مطابق خاطب(پیغامِ نکاح دینے والا)اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع