30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
فتوائے فقیر کا وہ مطلب کہ رکن اعظم انجمن نے بیان کیا محض غلط ہے،نہ اُن الفاظ سے کسی طرح اس کا وہم گزرسکتا ہے،سائل نے ان لفظوں سے سوال کیا تھا کہ"شرع میں رواج ملك کو مداخلت ہے کیا ان کے جواب میں اگر"ہاں"کہا جاتا تو ایك بُرے معنٰی کو وموہوم ہوتا کہ شرع کے حکم میں اُن کے غیر کو مداخلت ہے اور اگر"نہ"کہا جاتا تو معنی غلط مفہوم ہوتے کہ عرف کا شرع میں کچھ اعتبار نہیں حالانکہ صدہا احکام شرع مطہر نے عرف پر دائر فرمائے ہیں،لہذا ان لفظوں سے جواب دیا گیا کہ حکم شرع مطہر کے لئے ہے یعنی اصل حاکم شرع شریف ہے عرف ورواج وغیرہ کسی کو حکم میں کچھ دخل نہیں کہ خلافِ شرع یا بے حکم شرع عرف وغیرہ اپنے آپ کوئی حکم لگاسکیں ان الحکم الّا ﷲ حکم کامالك بس ایك اﷲ ہے ہاں بعض احکام کو شرع مطہر اپنے حکم سے عرف پر دائر فرماتی ہے کہ جہاں جیسا عرف ہو شرع اس کا لحا ظ فرماکر ویسا ہی حکم دیتی ہے تو اصل حکم شرع ہی کیلئے ہُوا اور اُسی کے معتبر رکھنے سے وہاں عرف کا اعتبار ہُوا یہ مسئلہ جہیز بھی صورت ثانیہ سے ہے کہ شرع نے یہاں عرف ورواجِ ملك پر مدارِ کار رکھا ہے،اگر جہیز دے کر دُلہن کو اس کا مالك سمجھتے ہیں تو تملیك مطلقًا مردود وبے اعتبار ہے،اُسی فتوٰی میں صراحۃً یہ لفظ موجود تھے،بالجملہ یہاں مدار عرف ورواج پر ہے اور ان سب اقوال وتفاصیل کا یہی منشا،توجدھر عرف لے جائے اسی طرف جانا واجب الخ سائل نے سولات کلّی طور پر کئے تھے کہ شرع میں رواج کو دخل ہے یا نہیں،جہیز جو لڑکی کو دیا جاتا ہے عاریت سمجھا جائےگایا نہیں۔اس وجہ سے جواب میں اُن تفصیلوں تحقیقوں کا افادہ ضرورہُوا،اب کہ آج کے سوال میں خاص مسئلہ فیض النساء بیگم سے سوال اور تصریحًا بیان کیا ہے کہ یہاں تملیك مقصود نہیں ہوتی اور عمومًا واپس لیتے ہیں اور گواہ موجود ہیں کہ فیض النساء بیگم نے یہ جہیز اپنے ہی مال سے دیا،اس کا جواب اسی قدر ہے کہ اس صورت میں ضرور فیض النساء بیگم جہیز واپس لینے کا اختیار رکھتی ہے جبکہ اس کی طرف سے کوئی دلیلِ تملیك نہ پائی گئی ہو جبکہ وہاں مطلقًا عمومًا بعد موت عروس لینے کا اختیار رکھتی ہے جبکہ اس کی طرف سے کوئی دلیلِ تملیك نہ پائی گئی ہو کہ جبکہ وہاں مطلقًا عمومًا بعد موت عروس واپسی جہیز کا رواج ہے تو ظاہرًا یہ رواج حقیقی ماں باپ کے سوا اَوروں میں بھی دائر وسائر ہوگا کہ جو شخص اپنے مال سے عروس کو جہیز دے بعد موتِ عروس واپس لے کہ جب حقیقی ماں باپ ہمیشہ واپس لیتے ہیں تو اور لوگ بدرجہ اولی واپس لیتے ہوں گے تو اس عرف واپسی بعد الموت میں فیض النساء بیگم بھی داخل ہُوئی،ہاں غیروں کے لئے یہاں محلِ نظر اتنا امر تھا کہ جہیز اپنے مال سے دینا ثابت ہو اس کی نسبت سائل بیان کرتا ہے کہ صدہا گواہ موجود ہیں تو اب فیض النساء بیگم کو اختیار واپسی ملنے سے کوئی مانع نہ رہا،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع