30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بریلوی،سوال انجمن نعمانیہ رائے پور،سوال:شرع میں رواجِ ملك کو بھی مداخلت ہے کیا؟جواب:مولانا صاحب! حکم شرع مطہر کے لئے ہے عرف ورواج وغیرہ کسی و حکم میں کُچھ دخل نہیں،ہاں بعض احکام کو شرع اپنے حکم سےعرف پر دائر فرماتی ہے خواہ یُوں کہ اگر یہ شَے معروف ورائج ہوجائے تو اس کے لئے یہ حکم ہے خواہ یُوں کہ حکم فی نفسہ حاصل،اور یہ اس کی صورت کا بنانے والاہے یہ مسئلہ جہیز بھی صورت ثانیہ سے ہے کہ والدین اپنے مال سے دُلہن کو جہیز دیتے ہیں اور دینا ہبہ وعاریت دونوں کو محتمل'اور ان کا تعیّن عرف پر محمول،جہاں عرف غالب تملیك ہو وہاں دعوٰی عاریت نامقبول،اور جہیز دینا تملیك ہی پر محمول جب تك گواہانِ شرعی سے اپنا عاریت دینا ثابت نہ کریں،اور جہاں عرف غالب عاریت ہو یا دونوں رواج یکساں ہوں وہاں ان کے قول قسم کے ساتھ معتبر،ایسی جگہ جہیز دینا جہاں تملیك نہ سمجھا جائے گا الخ۔جنابِ من!فتوٰی جناب کا فائز انجمن نعمانیہ ہوکرکے عرصہ دوسال کا ہوگا اس عرصہ دراز میں اکثر اوقات پیش نظر یعنی جناب رکن اعظم انجمن جناب مولوی حکیم مسمّی ابو سعیدصاحب کے بھی رہا،یقین ہُوا کہ مولوی صاحب اُن فتووں کے مطالب مقاصد ظاہر الروایات کے موافق ومطابق بخوبی سوچ سمجھ گئے ہوں گے،آخر الامر بروز جلسہ مع فتوٰی جناب کا بھی فتوٰی مولوی صاحب نے پڑھا اور جملہ اوّل جناب کے فتوٰی کا یہ تھا:"حکم شرع مطہر کے لئے ہے۔"مولوی صاحب نے جملہ مذکور کا خلاصہ اس طرح بیان فرمایا کہ جو حکم شرع کا ہے وُہ پاك ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔علاوہ بریں مولاناممدوح کے فتوے سے معلوم ہوتا ہے کہ رواجِ مُلك کو شرع میں کُچھ دخل نہیں ورنہ فیض النساء بیگم موافق دعوٰی اپنے اشیاءِ جہیز پانے کا کسی طرح حقدار ہوسکتی ہے بلکہ دعوٰی اس کا شرعًا مردود اور رواجِ مُلك مطرود،کیونکہ رواجِ مُلك بمقابلہ شرع کے ایك بیہودہ بات ہے،غرض اربابِ انجمن نے مولوی صاحب کے لاطائل بیان کو عدمِ واقفیت مسائل فتوٰی سے بلاغور وتامل مان لیا انتہی،التماس بندہ محمد قاسم ع
دل صاحبِ انصاف سے انصاف طلب ہے
اگرچہ یہ ناچیز حسبِ مقدور انجمن نعمانیہ میں بہت کُچھ رویا مگرنہ رونے کا اثر ہُوا نہ گانے کا،چونکہ تاریخ ملاحظہ فتوٰی سے تا آخر یہی کہتا رہا کہ مقدمہ مذکور میں جو رواج ملکی کا ذکر ہے ہر فتوٰی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وُہ رواج حکم میں عین شرعِ محمدی ہے اور جس پر حکم شارع علیہ السلام کا موجود،پس فیض النساء بیگم موافق فتوٰی علمائے دین کے مال واسباب جہیز کا موافق شرع محمدی کے واپس لینے کی مستحق ہے،جیسے مولانا احمد رضاخاں صاحب مدظلہ،اپنے فتوے میں لکھتے ہیں،قولہ ہمارے بلاد میں رواج عام ہے کہ دُلہن والے اپنی طرف سے سلامی وغیرہ جو کچھ کپڑے ونقد دُولہاکو دیتے ہیں اُس سے تملیك ہی کا ارادہ کرتے ہیں وُہ دیناہبہ سمجھا جائے گا۔غرض بندہ نے جناب کے مسئلہ کا خلاصہ ممبرانِ انجمن کو اس طرح سمجھا و سُمجھا دی کہ ہندوستان میں ہزار ہا بندگانِ خدا اس طرح کے بھی ہیں کہ جنہوں نے عمر خود میں کبھی نام تملیك کا سُنا نہ ہبہ وعاریت کا بلکہ خاص رواج ملك کے بلانیت تملیك وہبہ و عاریت کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع