30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قرار پائے تو وُہ ایك چیز ہے کہ بحکم مالك رہن رکھی گئی ہے مورثہ مدیونہ ہے اور مرتہن دائن وارث فك رہن کرائیں گے یا بتراضی باہمی وہی شے دین مرتہن میں دے دیں گے یا زیور دین میں بیچا جائے گا کچھ ہوگا یہ ان کا باہمی معاملہ ہے جس سے فیض النساء بیگم کوکوئی تعلق نہیں اور اگر زیوروں کا ملك فیض النساء بیگم اور خدیجہ بی بی کے پاس عاریت ہونا ثابت ہو تو نظر کریں گے کہ یہ رہن رکھنا بے اجازت فیض النساء بیگم تھا یعنی نہ اُس سے اذن لے کر رہن رکھا نہ اُس نے بعد رہن اس تصرف کو جائز کیا جب اُسے اختیار ہے کہ رہن فسخ کرکے اپنی چیز مرتہن سے واپس لے لے مرتہن اپنا دین ترکہ خدیجہ بی بی سے لیتا رہے،ردالمحتار میں ہے:
|
لانہ تصرف فی ملکہ علی وجہ لم یؤذن لہ فیہ فصار غاصبا وللمعیران یاخذہ من المرتھن ویفسخ الرھن جوہرۃ[1]۔ |
کیونکہ بیشك اس(راہن)نے دوسرے(معیر)کی مِلك میں اس طور پر تصرف کیا جس کا اذن اس کو نہیں دیا گیا تا تو وُہ غاصب ہوگیا اور عاریت دینے والے کوحق حاصل ہے کے مرتہن سے شیئ مرہون لے لے اور رہن کو فسخ کردے۔ جوہرہ۔(ت) |
اور اگر اُس سے پوچھ کر اس کی مرضی کے مطابق رہن رکھا(اگر چہ صورتِ حاضرہ میں ظاہرًا اس کی اُمید نہیں)یا بعد رہن اس نے تصرف کو اپنی اجازت سے نافذ کردیا تو رہن صحیح و نافذ ہوگیا اب فیض النساء بیگم جب تك دین مرتہن ادا نہ ہو شیئ مرہون واپس نہیں لے سکتی،ہاں یہ اختیار رکھتی ہے کہ اگر ورثہ خدیجہ بی بی فك رہن میں دیر لگائیں یہ خود مرتہن کو اُس کا دین دے کر اپنی چیز چُھڑالے اور جو کچھ مرتہن کو دے ترکہ خدیجہ بی بی سے واپس لے۔عالمگیریہ میں محیط امام سرخسی سے ہے:
|
لو ارادالمعیر افتکاکہ لیس للراھن والمرتہن منعہ ویرجع علی الراھن بما قضٰی لانہ مضطر فی قضائہ لاحیاء حقہ وملکہ[2]۔ |
اگر معیر مرہون شَے کو چُھڑانا چاہے تو راہن اور مرتہن اس کو منع نہیں کرسکتے اور وُہ جو کچھ مرتہن کو دے راہن سے لے سکتا ہے کیونکہ وُہ اپنے حق وملك کو حاصل کرنے کے لئے اس ادائیگی پر مجبور ہے(ت) |
درمختار میں ہے:
|
لورھن دارغیرہ فاجاز صاحبھا جاز[3]۔ |
اگر کوئی کسی کا گھر رہن رکھ دے پھر گھرکامالك اس کی اجازت دے دے تو جائز ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع