30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
غیرہما لا یجھز ھا الا بمالھا اھ[1] اقول: ھذاکلام قدرزق مت من الحسن وھو ینحو منحی ما قدمت من التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق ولعلك تفطنت مماالقینا علیك سابقا ولاحقا ان الموت غیر قید وقد احسن السید العلامۃ الطحطاوی حیث قال قد ذکرالمص فی باب المھران الام کالاب وان حکم الموت کحکم الحیات [2]اھ ھذاکلہ ماظھر لی والعلم بالحق عند ربی،والحمد ﷲ رب العالمین۔ |
دینے میں کیونکہ ماں باپ کے غیر میں ظاہر یہی ہے کہ وہ لڑکی کے مال سے جہیز بناتے ہیں الخاقول:(میں کہتا ہوں)اس کلام کو حسن سے وافر حصّہ ملا اور وُہ اسی روش پر چلا جو تحقیق ہم سابق میں کرچکے ہیں اور اﷲ تعالٰی ہی مالك توفیق ہے،اور ہم نے سابق ولاحق میں جو تجھ پر القاء کیا(یعنی بیان کیا)اُس سے شاید تو نے سمجھ لیا ہوگا کہ حکم مذکور میں موت قید نہیں،اور علّامہ سیّد طحطاوی نے بہت خوب کہا جہاں فرمایا کہ تحقیق مصنّف نے باب المہرمیں کہا کہ بیشك ماں،باپ کی طرح ہے۔اور موت کاحکم حیات کے حکم کی مثل ہے الخ یہ سب وُہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہُوا اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے،اور تمام تعریفیں اﷲکے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔(ت) |
بہر حال فیض النساء بیگم میں حکم یہی ہے
کہ اس کا یہ دعوٰی یُوں قابلِ سماعت نہیں،اولًا اس کی بنائے دعوی پر نظر لازم،آیا واپسی بخیال ہبہ تاحینِ حیاتے چاہتی ہے(جس طرح لفظ کپڑے و زیورات وغیرہ متروکہ لڑکی متوفیہ سے اُس کا کچھ پتا چلتا ہے جبکہ عرضی دعوے میں فیض النساء بیگم کے لفظ یہی ہوں کہ عاریت کو مستعیر متوفی کا ترکہ نہیں کہتے)جب تو دعوٰی کہ بعد مرور مدت خصوصًا بعد موت عروس ہوا بہت کیف محتاج شہادت ہے انہیں دو طریقہ مذکورہ سے کسی طریقہ پر گواہان عادل دے کہ یہ جہیز بدی تفصیل خدیجہ بی بی کو میں نے اپنے مال خاص سے عاریۃ دیا اگر گواہ دیدیں فبھا نہ دے سکے تو حاکم یا حاکم شرعی شوہر خدیجہ وغیرہ ورثا ء سے قسم لے کہ واﷲ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ جہیز مال فیض النساء بیگم سے خدیجہ بی بی کے پاس عاریۃً تھا اگر وُہ قسم کھالیں تو مقدمہ بحقِ وارثانِ خدیجہ ورنہ بحق فیض النساء بیگم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع