30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
العرف [1] اھ وفیہ عن البزازیۃ لانہ لما کان محتملا وسکت زمانا یصلح للاختیار دل ان الغرض لم یکن الجھاز [2]اھ قلت وقد نصواان من رأی احدا یتصرف فی شیئ زمانا ثم ادعی انہ ولم یکن ثم مانع من دعواہ لم تسمع قطعا للحیل وقد بینا ہ فی الدعاوی من فتاوٰنا۔ |
دراز اور مختصر ہونے کا اعتبار عرف پر ہے اھ اور اسی میں بزازیہ سے ہے،اسلئے کہ جب محتمل تھا اور وہ اتنا زمانہ اور ردالمحتار میں ہے کہ شارح نے کتاب الوقف میں فرمایا کہ اگر زفاف کے بعد اتنا زمانہ خاموش رہا جس سے اس کی رضا سمجھی گئی تو اب اس کے بعد اُس کو مخاصمت کا حق نہیں اگر چہ اُ س کے لئے کچھ بھی نہ بنایا ہو الخ اس عبارت میں شارح نے اپنے قول"یعرف"سے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ زمانہ کے خاموش رہا جس میں وُہ مطالبہ کو اختیار کرسکتا تھا تو اس بات کی دلیہل ہے کہ اس کی غرج جہیز لینا نہ تھا الخ قلت(میں کہتا ہوں)اس پر انہوں نے نص کی کہ جو شخص ایك زمانہ تك کسی کوکسی شیئ میں تصرف کرتے ہوئے دیکھتا رہا،پھر دعوٰی کیا کہ یہ شیئ اس کی ہے حالانکہ اس سے پہلے بھی دعوٰی سے کوئی مانع نہ تھا تو اس کا یہ دعوٰی اس کے حیلوں کی بنیاد پر مسموع نہ ہوگا۔تحقیق ہم نے اس کو اپنے فتاوٰی کے دعاوی میں بیان کیا ہے۔(ت) |
قرۃ العیون میں ہے:
|
لوجھزھا الاجنبی ثم ادعی انہ عاریۃ بعد موتھا لایقبل قولہ الاببینۃ لان الظاہر انہ لا یجھزھا ویترکہ فی یدھا الی الموت الابمالہا بخلاف الاب والام فانھما یجھزانھا بمال انفسھا لکن یکون ذلك تملیکا تارۃ وتارۃ عاریۃ ولذاقال شارح الوھبانیۃ وفی الولی عندی نظر الخ ای فی جعلہ کالاب والام لان الظاھر فی |
اگر اجنبی نے کسی عورت کو جہیز دیا پھر عورت کے مرنے کے بعد دعوٰی کی کہ یہ بطور عاریت تھا تو بغیر گواہوں کے اس کا قول قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ عورت کو جہیز دے کر اس کے مرنے تك اس کے قبضہ میں چھوڑ دینا صرف وہیں ہوگا جہاں عورت کے اپنے مال سے ہو بخلاف ماں باپ کے کیونکہ وہ اپنے مال سے بیٹیوں کو جہیز دیتے ہیں تاہم کبھی تو وہ بطور تملیك ہوتا ہے اور کبھی بطور عاریت۔اسی لئے شارح و ہبانیہ نے فرمایا کہ میرے نزدیك ولی صغیرہ میں نظر ہے الخ یعنی اس کو ماں باپ کی مثل قرار |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع