30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الی المرأۃ انی انما سلمت ھذہ الاشیاء بطریق العاریۃ او یکتب نسخۃ معلومۃ ویشھد الاب علی اقرار ھا ان جمیع مافی ھذی النسخۃ ملك والدی عاریۃ فی یدی منہ[1]الخ |
بے شك میں نے یہ اشیاء بطور عاریت دی ہیں یا یہ کہ ایك معین تحریر تیار کرکے باپ کو لڑکی کے اس اقرار پر گواہ قائم کرے کہ وُہ تمام اشیاء جو اس تحریر میں مرقوم ہیں میرے والد کی ملکیت ہیں اور میرے پاس اس کی طرف سے بطور عاریت ہیں الخ(ت) |
اقول: وباﷲالتوفیق(میں کہتا ہُوں اور اﷲتعالٰی سے توفیق ہے۔ت)یہاں دو٢مرحلے ہیں:اول اس کا اثبات کہ یہ جہیز میں نے مال سے دیا،ان بلاد میں باپ اس ثابت کرنے میں گواہوں کا محتاج نہیں لما تقدم من جریان العرف فی ذٰلك کذٰلک(جیسا کہ پہلے گزرا کہ اس میں عرف ایسا ہی جاری ہے۔ت)بلکہ دُلہن یا اس کے ورثہ میں اسکے منکر ہوں تووہ گواہ دیں کہ یہ جہیز باپ نے اپنے مال سے نہ دیا دُلہن کی مِلك سے بنایا بخلاف اجنبی کہ اُسے اوّلًا یہی ثابت کرنا ضرور ہوگا،
|
لعدم ظاہر یشھد لہ فی ذٰلك وانما البینۃ علی کل من یدعی خلاف الظاہر۔ |
کیونکہ اس معاملہ میں ظاہر اس کے لئے شاہد نہیں اور ہر اس شخص پر گواہ لازم ہوتے ہیں جو خلاف ظاہر دعوٰی کرے۔ (ت) |
پھر اگر یہ امر بینہ یا اقرار عروس یا تسلیم ورثہ سے ثابت ہوتو دوسرا درجہ ثبوت عاریت کا ہے یہاں اگر عرف عام یا مشترك سے عاریۃًدینا ثابت یا محتمل ہوتو ظاہرًا اجنبی بھی مثل پدر اور اس ثبوت دوم میں محتاج اقامت بینہ نہیں کہ جب اباء عاریۃً دیتے ہیں تو اجنبی کا قصدِ عاریت ہرگز خلافِ ظاہر نہیں بلکہ بلحاظ اجنبیت وہی اظہر ہے
|
ولا بینۃ علی من شھد لہ الظاہر مع انہ قد ثبت انہ الدافع فھو ادری بجھۃ الدفع مع ماتقدم من ان الاقل ھو المتعین فی ما احتمل۔ |
اس پر گوا ہ لانا لازم نہیں جس کے لئے ظاہر شاہد ہو باوجود اس کے کہ ثابت ہوچکا ہے کہ وُہ دینے والاہے پس وُہ دینے کی جہت کو بہتر جانتا ہے باوجود اس کے جو گزرا کہ محتمل میں اقل ہی متعین ہوتا ہے۔(ت) |
تو جب تك صراحۃً کوئی دلیلِ تملیك نہ پائی جائے بحالِ عموم یا اشتراك عرف عاریت اجنبی کا اس فعل پر اقدام خواہی نخواہی قصدِ تملیك پر محمول نہ ہونا چاہئے اور اگر عرف عام تملیك ہو کہ جہیز دینا مالك کرنا ہی سمجھا جاتا ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع