30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
انما یقول لم ارفیھا نقلا صریحا وبحث ابن وھبان لیس من النقل فی شیئ والعبد الضعیف فی عجب من سوق الدرالمسألۃ مساق المنقول مع علمہ بانہ بحث منہ وقد بحث فیہ الشارحون وقد علمت مماقد منا ان بحثھم حسن وجیہ فالحمد ﷲعلی حسن التنبیہ۔ |
کہتا ہُوں ہاں مخفی نہیں لیکن بے شك بحر میں فرماتے ہین کہ میں نے اس میں صریح نقل نہیں دیکھی اور ابن وہبان کی بحث کوئی نقل نہیں اور بندہ ضعیف کو اس بات پر حیرت ہے کہ درنے مسئلہ بطور منقول چلایا حالانکہ وُہ جانتے ہیں کہ یہ ابن وہبان کی بحث ہے اور تحقیق شارحین نے اس میںبحث کی ہے اور تحقیق ہمارے بیان سابق سے تو جان چکا ہے کہ ان کی بحث حسن و وجیہ ہے پس حُسنِ تنبیہ پر اﷲتعالٰی ہی کے لئے حمد ہے۔(ت) |
بالجملہ جب حقیقی دادی نانی،حقیقی دادا،حقیقی ماں میں علمائے کرام نے تردّد فرمایا تو سوتیلی ماں کہ محض اجنبیہ ہے کیونکر اس حکمِ پدر میں شریك ہوسکتی ہیں،اجنبی کے لئے صورتِ مستفسرہ میں یہی حکم لکھتے ہیں کہ اُس کا دعوٰی لے گواہانِ مسموع نہ ہوگا۔
درمختار میں ہے:
|
الام وولی الصغیرہ کالاب فیما ذکر وفیما یدّعیہ الاجنبی بعد الموت لایقبل الاببینۃ شرح وھبانیۃ[1]۔ |
ماں اور ولی صغیرہ حکمِ مذکورہ میں باپ کی طرح ہیں اور جہاں اجنبی کے بعد دعوٰی کرے تو گواہوں کے بغیر قبول نہیں کیا جائے گا،شرح وہبانیہ۔(ت) |
اور یہاں گواہوں سے اثبات عاریت کے دو٢طریقے ہیں:
ایك یہ کہ باپ ماں یا اجنبی جس کے ذمے اقامت بینہ کا حکم ہوگواہان عادل شرعی سے شہادت دلائے کہ میں نے یہ جہیز عروس کو دیتے وقت شرط کرلی تھی کہ عاریۃًدیتا ہوں۔
دوسرے یہ کہ دُلہن کا اقرارنامہ بتصدیق شہود عدل پیش کرے جس میں اس نے اقرار کیا ہو کہ یہ یہ جہیز مجھے فلاں نے اپنی ملك سے عاریۃً دیا ہے۔بحرالرائق میں ہے:
|
قال فی التجنیس والولوالجیۃ والذخیرۃ والبینۃ الصحیحۃ ان یشھد عند التسلیم |
تجنیس،ولوالجیہ اور ذخیرہ میں فرمایا بینہ صحیحہ یہ ہے کہ عورت کو یہ اشیاء دیتے وقت گواہ قائم کرے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع