30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دعوی التجھیز من مال نفسھا عاریۃ فان الاکثر ان الجھاز انما یکون من مال الاب وح لامساس لفرع القنیۃ بماھو فیہ ولاماقدمہ من قولہ بھذا یعلم ان الاب اوالام الخ ینا فیہ وکذا لانظر ھھنا الی کون الجد کالاب الافی مسائل فان ھذا امر لایؤخذ الامن العرف وانما قبلنا دعوی الاب لما علمنا من العرف الفاشی ان الجھاز یکون من مالہ فکان الظاھر شاھدا لہ فان ثبت مثلہ فی الجد فذاك والا فلا الحاق ولااشتراك ھکذاینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق واغرب من ھذاماذکر بعدہ فی منحۃ الخالق من قولہ قلت وجزم فی متن التنویر ان الام کا لاب فی تجہیزھا وعزاہ فی شرح المنح الی فتاوی قاری الھدایۃ وفی شرحہ الدرالمختار معزیا الی شرح الوھبانیۃ وکذا ولی الصغیرۃ ولایخفی شمولہ الجد وغیرہ اھ [1]۔اقول: نعم لایخفی ولکن البحر
|
رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ نے ماں کے اس دعوٰی کو قبول کرنے میں تردّد فرمایا کہ جو جہیز اس نے مال سے دیا ہے وُہ عاریت ہے کیونکہ اکثر طور پر جہیز باپ کے مال سے دیا جاتا ہے،تودریں صورت قنیہ کی فرع کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں جس میں صاحبِ بحر گفتگو کررہے ہیں نیز ان کا قول سابق کہ اسی سے معلوم ہوگیا کہ بیشك باپ اور ماں الخ اس کے منافی نہیں،اور نہ ہی یہاں اس بات کی طرف نظر ہے کہ دادا سوائے چند مسائل کے باپ ہے اس لئے کہ یہ امر تو صرف عرف سے ماخوذ ہے اور بلاشبہ ہم نے باپ کا دعوٰی اس لئے قبول کیا کہ ہم نے عرف مشہور سے جان لیا کہ جہیز وُہ اپنے مال سے دیتا ہے لہذا ظاہر اس کے لئے شاہد ہوا،تو اگر کسی کی مثل دادامیں ثابت ہوجائے تو اس کا حکم بھی یہی ہوگا وگرنا نہ الحاق ہے نہ اشتراک،یوں ہی تحقیق چاہئے،اور اﷲتعالٰی ہی مالك توفیق ہے،اور اس سے بھی زیادہ عجیب وغریب ہے وہ جو اس کے بعد منحۃالخالق میں اس کے اس قول کے ساتھ مذکور ہُوا،میں کہتا ہوں کہ متنِ تنویر میں اس پر جزم فرمایا کہ تجہیز میں ماں،باپ کی طرح ہے۔اور شرح منحہ میں اس کی نسبت فتاوٰی قاری ہدایہ کی طرف کی،اور درمختار کی شرح میں شرح وہبانیہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے ہے کہا یونہی ولی صغیرہ بھی ہے اور اس کاشمول دادا وغیرہ کو مخفی نہیں ہے اھ اقول:(میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع