30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
التملیك حتی یرد علیہ بماقدم من قول القنیۃ وھل یتأتی مثلہ الاممن لایکاد یفھم مایخرج من رأسہ فکیف یجعل علی مثلہ کلام مثل ھذا الجلیل النبیل،ولذا لمالم یتضح الامرعند العلامۃ السیّدالطحطاوی اسقط لفظ الام من کلام البحر واقتصر علی قولہ ھل ھذا الحکم المذکورفی الاب یتأتی فی الجد [1]الخ لکن العلامۃ الشرنبلالی فی غنیۃ لم یستبعدہ فقال قال صاحب البحر ھل ھذ االحکم المذکور فی الاب یتأتری فی الام والجد صارت واقعۃ الفتوی ولم ارفیھما نقلا صریحا[2] اھوقال العلامۃ الشامی تردد فی البحر فی الام والجد [3]الخ وقال الرملی ماسمعت فانماالامرمافتح المولٰی سبحانہ وتعالٰی ان لاتردد فی الحاق الام بالاب فی کون التجھیز منھا تملیکا لمکان العرف وانما تردّد رحمہ اﷲتعالٰی فی قبول
|
جہیز دینا تملیك میں ظاہر ہے۔یہاں تك اس پر وارد ہو وُہ قنیہ کے قول سے مقدم گزرا۔اور نہیں حاصل ہوتا اس کی مثل مگر صرف اس شخص سے جو یہ نہ سمجھتا ہوکہ اس کے سر سے کیا خارج ہورہا ہے،تو ایسے عظیم الشان عالم نبیل کے کلام کو اس قسم کے بیہودہ مؤقف پر کیسے محمول کیا جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب علّامہ سیّد طحطاوی پر یہ امر واضح نہ ہوسکا تو انہوں نے کلام بحر سے لفظ ام کو حذف کرتے ہوئے اس قول پر اکتفاء فرمایا کہ کیا یہ حکم جو باپ کے بارے میں مذکور ہے دادا کے لئے حاصل ہوگا الخ لیکن علامہ شرنبلالی نے اس کو مستبعد نہ جانتے ہوئے غنیـہ میں فرمایا کہ صاحب بحرنے کہا کیا یہ حکم جو باپ کے بارے میں مذکور ہے ماں اور دادا کے لئے حاصل ہوگا؟ یہ فتوٰی سے متعلق ایك واقعہ پیش آگیا ہے اور میں نے اس میں کوئی صریح نقل نہیں دیکھی۔علامہ شامی نے فرمایا کہ بحر میں ماں اور دادا کے بارے میں تردّد کیا،رملی نے فرمایا کہ میں نے نہیں سنا،بے شك معاملہ جو مولٰی سبحٰنہ وتعالٰی نے منکشف فرمایا وُہ یہ ہے کہ صاحبِ بحر نے ماں کو باپ کے ساتھ اس حکم میں ملحق ماننے میں تردّد نہیں فرمایا کہ ماں کی طرف سے دیا جانے والاجہیز عرفًا تملیك ہے البتہ صاحبِ بحر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع