30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یعلم ان الاب او الام اذا جھز بنتہ ثم مات فلیس لبقیہ الورثۃ علی الجھاز سبیل لیکن ھل ھذاالحکم لامذکور فی الاب یتأتی فی الام والجد فلو جھز ھا جدھا ثم ماتت وقال ملکی وقال زوجھا ملکھا صارت واقعۃ الفتوی ولم ار فیھا نقلا صریحا [1]اھ قال فی منحۃ الخالق قال الرملی الذی یظھر ببادی الرأی انھما ای الام والجد کذلك اما الام فلما قدمہ من قول القنیۃ صغیرۃ نسجت جھازامن مال امھا وابیھا الخ واماالجد فلقولھم الجد کالاب الافی مسائل لیست ھذہ منھا تأمل [2]اھ اقول: ماکان ھذاالبحر الطام الحبر التام لیذکر فرع القنیۃ فی ھذہ الاسطر العدیدۃ ویفرع علیہ بنفسہ ان الاب او الام اذجھزبنتہ فلیس لوارث علی الجھاز سبیل ثمّ یتردد متصلا بہ فی التحاق الام بالاب فی کون التجھیز منھا ظاہرافی
|
پھر فرمایا اسی سے معلوم ہوگیا کہ جب باپ یاماں بیٹی کوجہیز بناکردیں تو ان کے مرنے کے بعد باقی وارثوں کا جہیز پر کوئی حق نہیں ہوتا لیکن کیا یہ حکم جو باپ کے لئے مذکور ہُوا وہ ماں اور دادا کے لئے حاصل؟ تو اگر لڑکی کو اس کے دادا نے جہیز دیا پھر وہ لڑکی مرگئی اور دادا نے کہا یہ جہیز میری ملکیت ہے اور اس لڑکی کا شوہر کہتا ہے کہ یہ لڑکی کی ملکیت ہے یہ فتوے سے متعلق ایك واقعہ پیش آگیا ہے اور میں نے اس میں کوئی صریح نقل نہیں دیکھی۔منحۃ الخالق میں فرمایا کہ رملی نے کہا ہے بنظر ظاہر وُہ دونوں یعنی ماں اور دادا،باپ کی طرح ہی ہیں،ماں تو اس وجہ سے جس کا بحوالہ قنیہ پہلے ذکر کیا ہے کہ لڑکی نے اپنے باپ اور ماں کے مال سے جہیز بنایا الخ اور دادا اس لئے کہ ان(فقہاء)کا قول ہے کہ دادا مثل باپ کے ہے سوائے چند مسائل کے جن میں جہیز نہیں ہے۔غور کرالخ۔ اقول:(میں کہتا ہوں)ایسے عظیم سمندر اور کامل وماہر عالم کے لائق یہ نہیں کہ وُہ ان چند سطروں میں قنیہ کی فرع ذکر کرے اور بذاتِ خود اس پر یہ تصریح ذکر کرے کہ بیشك ماں یا باپ جب بیٹی کو جہیز دیں تو کسی وارث کا جہیز میں کوئی حق نہیں پھر اس کے متعلق ہی اس بات میں تردّد کرے کہ ماں اس حکم میں باپ کے ساتھ ملحق ہے کہ ماں کی طرف سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع