30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال ابن وھبان فی منظورمتہ ؎ ومن فی جھاز البنت قال اعر تہ یصدق والاشھادیشترط اظہر [1] ثم قال فی شرحھا ینبغی ان یکون الحکم فیما تدّعیہ الام و ولی الصغیرۃ اذا زوجھا کما مر لجریان العرف فی ذٰلك کذٰلك [2]الخ ای انھم انما یجھزون من اموالھم فکان الظاہر شاہدا لھم قال الشارح العلامۃ قلت وفی الولی عندی نظر [3] اھ وھکذا انقلہ الشرنبلالی فی تیسیر المقاصد واقرقال فی الدر (الام)وولی الصغیرۃ(کالاب)فیما ذکر[4]اھ،قال ط قولہ فیما ذکر ای فی اعتبار العرف وھذا الحکم فی الام والولی بحث لابن وھبان قال العلامۃ عبد البر وفی الولی عندی نظر ای فان الغالب من حالہ العاریۃ بخلاف الابوین
|
معاملہ منکشف ہوجائے۔ ابن وہبان نے اپنی منظومہ میں فرمایا:اور جو شخص اپنی بیٹی کے جہیز کے بارے میں کہے کہ میں نے بطور عاریت دیا ہے تو اس کی تصدیق کی جائے گی اور اس میں گواہوں کا شرط ہونا اظہر ہے۔پھر اس کی شرح میں فرمایا کہ جہیز کے بارے میں ماں اور نابالغہ کا نکاح کرنے والے ولی کے دعوٰی کا حکم بھی ایسا ہی ہونا چاہئے جیسا کہ گزرا کیونکہ اس میں عرف ایساہی ہے یعنی وُہ اپنے مالوں سے جہیز بناتے ہیں تو ظاہر ان کے لئے شاہد ہُوا۔علامہ شارح نے فرمایا کہ میرے نزدیك ولی صغیرہ میں نظر ہے،ایسا ہی شرنبلالی نے تیسیرالمقاصد میں اس کو نقل کرکے مقرر رکھا۔در میں فرمایا کہ ماں اور صغیرہ ولی مذکور میں باپ کی طرح ہیں،اور ط نے فرمایا کہ اس کے قول فیما ذکر(مذکور میں)سے مراد یہ ہے کہ اعتبار عرف میں،اور ماں اور صغیرہ کے ولی کے بارے میں یہ حکم ابن وہبان کی بحث ہے۔علامہ عبد البر نے فرمایا کہ ولی صغیرہ میں میرے نزدیك نظر ہے کیونکہ اس کے حال سے غالب عاریت ہے بخلاف ماں باپ کے کہ ان کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع